سیرت احمد

by Other Authors

Page 116 of 131

سیرت احمد — Page 116

219 218 برابھلا کہنے کے جواب میں گالیاں دیتے ہیں۔حضور خود ان کو منع فرما ئیں۔آپ کے نواب صاحب رامپور کے پاس علماء گئے تھے۔نواب صاحب نے عام طور پر حضور کی یہ عادت تھی کہ حضور کو اگر کسی دوست کی کمزوری کا کیا اثر لیا اور ان کا کیا خیال ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ وہ مباحثہ میں اور تو علم ہوتا تو مجلس میں بغیر کسی کا نام لئے اس برائی سے بچنے کے نصائح فرما بہت سی باتیں تسلیم کرتے تھے۔لیکن نبی کے لفظ پر چڑتے تھے۔فرمایا یہ عربی دیتے۔مگر چونکہ عبداللہ صاحب پروفیسر صاحب کے متعلق کئی لوگوں نے زبان کی ناواقفیت کی وجہ ہے۔نبی کا لفظ نباء سے مشتق ہے۔اس کے معنے درخواست کی تھی۔اس واسطے دوسرے موقعہ پر جب عبد اللہ صاحب نماز خبر کے ہیں۔آپ ان سے کہیں کہ کیا مرزا صاحب نے بہت سی خبریں اور میں حاضر ہوئے تو حضور نے بعد نماز ان سے مخاطب ہو کے فرمایا کہ آپ کی پیشگوئیاں کی ہیں اور پوری ہوئی ہیں۔وہ جب یہ مان لیں کہ کثرت سے نسبت ایسا معلوم ہوا ہے کہ آپ تبلیغ میں دوسرے کے برا بھلا کہنے کے پیشگوئیاں اور خبریں پوری ہو چکی ہیں تو پھر نبی ماننے میں کیا اعتراض ہے۔میری پہلی بیوی فوت ہو گئی۔مولوی عبداللہ صاحب سنوری مرحوم مع مقابل میں خود بھی گالیاں دیتے ہیں۔اہوں۔پروفیسر صاحب نے عرض کیا کہ حضور چاہے مجھے کوئی مارے چاہے گالیاں اپنی اہلیہ صاحبہ کے قادیان شریف آئے ہوئے تھے۔انہوں نے قادیان دے۔لیکن میں کبھی اس کا جواب نہیں دیتا۔لیکن جب کوئی مخالف حضور کو سے مجھے سرہند میں خط لکھا کہ میاں کریم بخش صاحب نمبردار ساکن رائے گالیاں دے۔تو پھر میں برداشت نہیں کر سکتا۔پھر میں بھی اس کو گالیاں دیتا پور ریاست نامہ مع اپنی اہلیہ اور لڑکے کے یہاں آئے ہوئے ہیں۔تو اس پر چوہدری کریم بخش صاحب کہتے ہیں کہ آپ اگر اپنے بیٹے کے لئے رشتہ حضور نے فرمایا میری نصیحت یہی تو ہے کہ جب وہ مجھے گالیاں دیں تو آپ لینا چاہیں تو میں منظور کر لیتا ہوں۔کیونکہ ان دنوں میں ان کے لڑکے رحمت صبر کریں۔اس پر پروفیسر صاحب نے عرض کیا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی اللہ صاحب کی بیوی بھی فوت ہو چکی تھی اور اس کے لئے بھی رشتے کی ہمارے پیر کو گالیاں دے اور ہم صبر کریں۔جبکہ میں دیکھتا ہوں کہ اگر کوئی ضرورت تھی کہ مولوی صاحب نے کہا کہ پہلے میں اپنے بھتیجے کا رشتہ کروں حضور کے پیشوا محمد میں اللہ کو گالی دے یا برا بھلا کہے تو آپ برداشت نہیں گا اور بعد میں اپنے لڑکے کا۔تو چوہدری کریم بخش صاحب نے کہا کہ میں کرتے اور اس کے ساتھ مباہلہ تک کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔تو میں اپنے آپ کے بھتیجے کو دیکھ کر اگر مناسب سمجھوں گا تو رشتہ کر دوں گا۔اس لئے میں تمہیں اطلاع دیتا ہوں۔کہ قادیان آجاؤ۔اس خط پر میں رخصت لے کر قادیان حاضر ہوا۔جب میں قادیان پہنچا تو مکرم عبد اللہ صاحب مرحوم نے فرمایا کہ تم نے آنے میں دیر کر دی اور کل چوہدری کریم بخش صاحب پیر کے لئے کیوں برداشت کروں۔حضور مسکرائے اور خاموش رہے۔ایک دن حضور میر کے لئے تشریف لے جارہے تھے۔میں اور ذولفقار علی خانصاحب بھی ساتھ تھے۔راستے میں حضور نے خانصاحب سے فرمایا کہ I