سیرت احمد — Page 115
217 216 سمجھا دیں وہ اس خیال سے کہ اگر والد صاحب یہاں فوت ہو جا ئیں تو نعش والد صاحب کا خواب والد صاحب نے فرمایا کہ میں نے دیکھا کہ لے جانی پڑے گی جب میں کبھی بیمار ہو تا ہوں تو وہ مجھے قادیان لے جاتا میرے پاس فرشتہ شکل انسانی میں آیا اور مجھے کہا کہ اللہ کے حضور پیش ہونے کے لئے چلیں۔میں اپنے اعمال کی نسبت خیال کر کے ندامت محسوس کرتے ہوئے یہ چاہتا تھا کہ نہ جاؤں۔مگر اس کی آواز میں ایسی کشش تھی کہ میں اس کے ساتھ ساتھ جانے سے رک نہ سکا۔اور مکان کے اندر داخل ہو گیا۔جو عدالت کا کمرہ معلوم ہو تا تھا۔ہے۔اس کو کہدیں کہ وہ آئندہ ایسا نہ کرے۔جب ایسا موقع ہو گا اس کو خبر بھی نہ ہوگی کہ میں انشاء اللہ قادیان پہنچ جاؤں گا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ان کی وفات سے دو دن پہلے میں کسولی پہاڑ پر گیا ہوا تھا۔میرے بعد والد صاحب کی وفات ہو گئی۔میری ہمشیرہ اور میرے بہنوئی نور محمد صاحب تار پر قادیان سے سنور آگئے۔صندوق تیار کرا کر لاری میں رکھوا کر اس میں ایک ایک چبوترے پر میز کرسی بچھی ہوئی تھی۔میری ہچکی بندھی قادیان لے گئے۔جہاں آپ کی نماز جنازہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ ہوئی تھی اور میں نظر نیچی کئے ہوئے تھا اور مجھے یہ خیال تھا کہ مجھ سے کوئی سوال ہو گا۔کوئی آواز نہ آئی۔تو میں نے ہلکے ہلکے نظر اٹھا کر دیکھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ کرسی پر حضرت مسیح موعود تشریف فرما ہیں۔جب میں نے آپ کے چہرہ مبارک کی طرف دیکھا اور آپ نے میری طرف دیکھا۔تو کہا کہ ان کو لے جاؤ۔انہوں نے میری بیعت کرلی تھی۔ان سے کیا حساب لینا۔اس کے بعد میں بیدار ہو گیا۔بنصرہ العزیز نے پڑھائی اور آپ بہشتی مقبرہ میں دفن ہوئے اور میں بعد میں سنور پہنچا۔ایک دفعہ میں قادیان میں آیا ہوا تھا۔ایک معمر آدمی دہلی سے بھی آئے ہوئے تھے۔انہوں نے حضرت مسیح موعود کی بیعت کی۔بیعت کے بعد دعا ہوئی۔اس کے بعد مجلس میں سے کسی دوست نے یہ عرض کیا کہ حضور ان نو مبائع صاحب نے دیر سے محنت جاری کر رکھی ہے کہ کوئی نئی مشین ایجاد کریں۔حضور دعا فرمائیں کہ انہیں اس مقصد میں کامیابی حاصل ہو۔اور نور فراست کا مظاہرہ چونکہ والد صاحب کی وصیت کی ہوئی مشین ایجاد ہو جائے۔حضور نے فرمایا کہ پہلے ان کی مشینری تو سنورنی اس لئے جب کبھی آپ پیار ہوتے۔تو میں انہیں کوئی بہانہ بنا کر کے قادیان لے آتا۔چونکہ وہاں ہمشیرہ صاحبہ رہتی تھیں۔اس لئے وہ وہیں رہتے۔اور میں واپس آجاتا۔جب کئی دفعہ ایسا موقعہ پیش آیا تو آپ نے میری والدہ صاحبہ سے فرمایا قدرت اللہ کو چاہئے۔جب یہ مشین درست ہو جائے تو اور ایجادیں بھی درست ہو سکتی ہیں۔ایک دفعہ مسجد مبارک میں آپ کی خدمت میں یہ شکایت پیش ہوئی کہ میاں عبداللہ المعروف پروفیسر صاحب مخالفین سے بات کرتے وقت ان کے