سیرت احمد — Page 78
143 142 سردار فضل حق صاحب میرے پاس آئے اور کہا۔آؤ شاہ صاحب باہر سیر ہو تا۔حضور مجھے فرماتے تھے۔کہ دیکھو شاہ صاحب الہام ہوا ہے کہ ہم دیر اور شکار کر آئیں۔میں نے انکار کیا کہ شاید حضرت صاحب یاد فرمالیں اور تک نہ پکڑیں گئے۔(یعنی در و دیر تک نہ رہے گا) اور یہی الہام تین چار دفعہ میں حاضر نہ ہوں۔انہوں نے کہا۔یار تجھے ہی حضرت صاحب یاد کریں اس عرصہ میں ہوا۔گے۔بہت خصوصیت نہ جتا۔آچلیں۔چنانچہ ان کے اس کہنے پر ان کے ایک دن چوبارہ کے صحن میں میں اور حضرت مسیح موعود بیٹھے تھے۔اور ساتھ چلا گیا۔اور تقریباً ایک گھنٹہ سیر کر کے جب واپس آئے تو مجھے معلوم بادام آگے رکھے تھے (شاید وہ بادام نیچے سے آئے تھے یا حضور اندر سے ہوا کہ حضرت صاحب نے دادی صاحبہ (ایک خادمہ تھیں) کی معرفت لائے تھے)۔آپ نے فرمایا۔شاہ صاحب ان باداموں کو تو ڑو اور حضور کبھی تلاش کروایا۔پہلے دادی صاحب کو کہا کہ بیت الفکر سے شاہ صاحب کو بلاؤ۔کبھی ان باداموں کو خود بھی توڑتے تھے۔میں بادام تو ڑ رہا تھا کہ اتنے میں میں وہاں نہ ملا تو فرمایا وہ جاتے کہیں نہیں مولوی صاحب کے شفا خانہ میں حضرت میاں بشیر الدین جن کی عمر اس وقت چار یا پانچ سال کی ہو گی۔آئے ہوں گے۔اس نے دیکھ کر بتایا۔وہاں بھی نہیں۔آپ نے فرمایا مسجد اقصیٰ اور سب بادام اٹھا کر جھولی میں ڈال لئے۔میں لیتا تھا۔اور میاں بشیر الدین میں دیکھ۔چنانچہ اس نے دیکھ کر بتایا نہیں۔خیر جب مجھے معلوم ہوا۔میں نہیں دیتے تھے۔میں چھٹتا تھا مگر میاں الٹا کر پھر جھولی میں ڈال لیتے تھے۔جب ندامت سے بھرا ہوا ( حضور کی خدمت میں پہنچا اور دستک دی۔حضور نے حضرت اقدس نے توجہ فرمائی تو فرمانے لگے۔دیکھو شاہ صاحب میں آپ دروازہ کھولا۔حاضر ہوا۔فرمانے لگے ایسے موقعہ پر شاہ صاحب ہمارے سے دیتا ہوں۔اور میاں سے فرمانے لگے۔کہ یہ میاں بہت اچھا ہے۔یہ پاس سے کبھی غیر حاضر نہ ہوا کریں۔کیونکہ ایسے سردرد کے دورہ میں اکثر زیادہ نہیں لے گا۔صرف ایک یا دو لے گا۔باقی سب ڈال دے گا۔جب مجھے الہامات بہت ہوتے ہیں۔اور میں چاہتا ہوں کہ جو ہمارے پاس زیادہ حضرت صاحب نے یہ فرمایا۔میاں نے جھٹ سب بادام جھولی سے میرے رہنے والے ہیں ان کے لئے بھی تشفی کے الہامات ہوں۔آپ کبھی ایسے آگے رکھ دیئے۔اور صرف ایک یا دو بادام لے کر چلے گئے۔موقعہ پر غیر حاضر نہ ہوا کریں۔اگر کہیں جانا ہو تو اجازت لے کر جایا کریں۔ایک دفعہ حضور کے دانت میں سخت درد ہو تا تھا۔میں پاس تھا آپ کبھی نہ چاہتے تھے۔انگریز کا حکم تھا اور اس حکم کی منسوخی کی کوئی صورت نظر نہ کسی صندوق سے دوائی مجھ سے نکلواتے اور بھنبہ میں لگوا کر دانت میں آتی تھی۔انہوں نے جھٹ تین ماہ کی رخصت لی۔اور قادیان چلے آئے۔رکھتے۔کبھی کوئی شیشی منگواتے تھے۔یہ حالت تقریباً ایک گھنٹہ رہی۔اسی کہ چلتا ہوں۔حضرت سے دعا کراؤں گا۔کیونکہ سب انگریز آفیسر خدا کے حالت کے درمیان حضور کو تقریباً تین چار بار الہام ہوا اور ہر دفعہ جب الہام ہاتھ میں ہیں۔قادیان آکر حضرت صاحب سے عرض کی۔فرمایا اچھی بات ایک دفعہ میرے بھائی ناصر شاہ صاحب کا تبادلہ گلگت ہو گیا۔وہ وہاں جانا די 1