سیرت احمد

by Other Authors

Page 72 of 131

سیرت احمد — Page 72

131 130 مولوی صاحب کو کہدو۔یہ بات غلط ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کو واقعی آگ میں ڈالا گیا تھا۔اور جو کوئی یہ غلط ثابت کرے وہ ہمارے مخالفوں کو اکسائے کہ وہ بہت سے اکٹھے ہو کر مجھ کو آگ میں ڈال کر دیکھ لیں۔اگر روایات ۶۰ (بھائی) عبدالرحیم صاحب میری بیعت کی وجہ یہ تھی کہ مجھے حضرت مسیح موعود کی تحریر میں محبت آگ مجھ کو چھو جائے تو سمجھ لیں کہ وہ واقعہ غلط تھا۔یہ فقرہ میرے کانوں میں الہی کی بو آتی تھی۔اور میں نے دیکھا کہ آپ کا کلام انشا پردازوں کے تصنع یا گونج رہا ہے۔دنیاوی علماء کی بناوٹ سے پاک تھا۔چنانچہ میں نے صرف ست بچن پڑھ کر ایک دن حضرت صاحب نے فرمایا جبکہ بوجہ زلزلہ کے حضور باغ میں یقین کر لیا کہ اس کتاب کا لکھنے والا ایک دنیا دار اور ریا کار انسان نہیں ہو رہائش فرما تھے کہ ہم کو لنگر کے خرچ کے لئے بہت تشویش تھی۔مہمان سکتا بلکہ یہ طرز کلام کسی راستباز کا ہے۔مجھے تصوف کا شوق تھا۔میرے زیادہ آتے ہیں۔روپیہ کی ضرورت تھی۔آج ایک شخص آیا۔پھٹے پرانے استاد ایک ہندوید نئی تھے۔میں ان سے کیمیائے سعادت پڑھا کرتا تھا۔ایک کپڑے پہنے ہوئے تھے۔کچھ کہنا چاہا۔میں نے اس کی طرف توجہ کی تو ایک دن پڑھاتے پڑھاتے بادا صاحب نے علم لدنی کی تشریح کرتے ہوئے کہا۔پوٹلی میلی سی لیر میں پیش کر دی۔میں نے سمجھا کچھ پیسے ہیں۔اندر آکر شمار جس طرح محمد صاحب کو ہو گیا تھا۔یا جس طرح مرزا صاحب قادیان والے کیا تو دوصد کے قریب روپیہ تھا۔فرمایا معلوم ہوتا ہے بے چارے نے اپنا کو ہے۔بادا صاحب گو مسلمان نہ تھے۔لیکن ان کے منہ پر محمد صلعم کے ساتھ ہی حضرت مرزا صاحب کا نام آجانا میرے لئے بڑی تحریک کا موجب سارا ہی اندوختہ پیش کر دیا۔ایک دن آپ نے مسجد مبارک میں بیٹھے فرمایا (یعنی حضرت خلیفتہ المسیح ہوا۔اور آخر قادیان آکر بعد تحقیق حق ثابت ہوا۔الثانی نے) کہ حضرت مسیح موعود فرماتے تھے۔جو مجھ سے تعلق پیدا نہیں جس زمانے میں میں پہلی دفعہ یہاں قادیان آیا میں نے دیکھا کہ حضرت کرے گا۔وہ کاٹا جائے گا۔خواہ وہ بادشاہ ہی ہو۔اس لئے غیر احمدی قوم کا صاحب تمام مہمانوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے۔اور بعد مغرب چندہ اشاعت اسلام کے لئے ہمیں کس کام کا ہے۔کیونکہ وہ اشاعت اسلام چھوٹی مسجد کے اوپر دربار ہوتا تھا جس میں عجیب عجیب نکات معرفت بیان کس کام کی جس میں غیر مسیح کا چندہ ہو۔جب حضرت اقدس فرماتے ہیں کہ فرماتے تھے اور عشاء تک حضور باہر رہتے۔مجھے پہلی مرتبہ یہ دیکھ کر تعجب خواہ بادشاہ ہی ہو۔وہ بھی بلا تعلق کاٹا جائے گا تو کٹ جانے والوں کے مال ہوا تھا کہ آپ وکلاء کو کسی مقدمہ کی پیروی کے متعلق ہدایات فرما رہے تھے۔میرا یہ تعجب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو دیکھ کر اور آپ کے مسجد کے اندر صحابہ کو جنگ اور دیگر ہدایات کے دینے سے رفع ہوا۔میں کیا برکت ہے۔רי