سیرت احمد

by Other Authors

Page 40 of 131

سیرت احمد — Page 40

67 66 تشریف لے گئے اور وضو کر کے پھر نماز ادا فرمائی۔خدا برکت دے۔رات کو قرآن کے نوٹ لکھنا ایک دن تجھید کے وقت میں روایات ۳۲ باہر نکلا تقریباً چار بجے حضرت حافظ معین الدین صاحب ہونگے۔دیکھا حضور ڈہاب کی طرف سے تشریف لا رہے ہیں۔معلوم ہوا میرا گاؤں بھینی ضلع امرتسر، امرتسر سے چار کوس کے فاصلہ پر ہے۔باغ سے تشریف لائے ہیں۔بغل میں قرآن شریف تھا۔چند کاغذ قلم دوات میرے نانکے قادیان میں تھے۔میری پیدائش قادیان میں ہی ہوئی تھی۔تھے۔آپ نے مجھے دیکھ کر جھٹ السلام علیکم فرمایا اور خندہ پیشانی سے گھر کو یہاں ہی جو ان ہوا۔اور تھوڑا ہی عرصہ کبھی کبھی جاکر بھینی رہا۔میرے نانا صاحب نے پہاڑی دروازہ کھو جوں والی مسجد میں ایک ملاں حسین بخش کے تشریف لے گئے۔میں نے آٹا وغیرہ کی دکان کرلی تھی۔آپ کو یہ معلوم ہو گیا کہ خالص پاس مجھے پڑھنے کے لئے بٹھایا۔مرزا سلطان احمد بھی وہاں میرے ساتھ گھی اور آٹا ہوتا ہے۔ایک دن مجھے بلوایا میں در دولت پر حاضر ہوا۔اور پڑھتے تھے۔اسی طرح پھر میں حضرت صاحب کا واقف ہوا۔اور حضور کے دستک دی۔حضور تشریف لائے۔آپ نے فورا السلام علیکم فرمایا اور پوچھا گھر آنے جانے لگ گیا۔ان دنوں حضرت صاحب دس گیارہ سال کامل تمہارے ہاں سنا ہے عمدہ آٹا اور گھی ہوتا ہے۔میں نے کہا ”حضور " فرمایا گوشہ نشینی کے بعد باہر نکلنے لگے تھے۔اس سے پہلے حضور نے تقریباً دس ہمارے لنگر کے لئے دے سکتے ہو ؟ میں نے کہا انشاء اللہ۔اس کے بعد حضور گیارہ سال گوشہ نشینی کی اور بہت ہی کم با ہر نکلتے تھے اور لوگوں سے بہت کم اکثر دفعہ گھی منگوایا کرتے جس وقت اطلاع دی جاتی کہ اتنا گھی دیا گیا۔تو ملتے تھے۔اس عرصہ میں حضور کی صحت کچھ خراب ہو گئی تھی۔آپ کے فور انقد قیمت ادا فرماتے۔اگر قیمت نہ ہوتی تو وعدہ فرماتے ایک دن کا یا چار والد صاحب مرحوم کو جب علم ہوا تو فرمایا اس ملاں کو کہو ذرہ باہر عمل لیا دن کا غرض یہ عادت تھی کہ جو وعدہ فرماتے اس سے کچھ وقت پہلے روپیہ کرے اور دیکھ بھال کر توجہ کی اور مرغ اور سریاں کھلائی شروع کیں اور یخنی پلانی شروع کی کیونکہ کمزوری بڑھ گئی تھی۔اس لئے کہ جو کھانا آتا تھا وہ مسکینوں کو دے دیتے تھے اور خود بہت کم کھاتے تھے۔آپ کے بھائی مرزا ارسال فرماتے۔ایک دن حضور سیر کے لئے جارہے تھے جب بازار میں سے گزرے میں وکان میں کام کر رہا تھا میں نے السلام علیکم کہا۔حضور نے تبسم لب ہو کر غلام قادر کو جب پتہ لگا کہ یہ روٹی تقسیم کر دیتے ہیں ، انہوں نے گھر میں انتظام کر دیا کہ دو آدمیوں کا کھانا زیادہ بھیجا کرو۔اس لئے پھر دس بارہ جواب دیا اور فرمایا۔الحمد للہ ہمارے سلسلہ کی دکانیں بازار میں ہیں۔فرمایا I i