سیرت احمد — Page 31
49 48 لے گئے۔تھوڑی دیر کے بعد حضور پھر تشریف لائے اور دروازہ پر سے مسجد لوگوں سے بھر گئی۔حضرت صاحب کا چہرہ بڑا بشاش تھا۔آپ نے صاحب فنانشل کمشنر بہادر کی تشریف آوری کے متعلق اور وہ گفتگو جو اس پردہ اٹھایا۔وہاں صرف میں ہی بیٹھا ہوا تھا۔آپ نے مجھے السلام علیکم نے احمدی احباب سے کی تھی سنی۔گفتگو کے درمیان خواجہ کمال الدین نے فرمایا۔اتنے میں نیچے سے حضرت میر ناصر نواب صاحب تشریف لے کہا کہ حضور صاحب فنانشل کمشنر کو حضور کی طرف سے دعوت دے دی گئی آئے۔حضرت صاحب نے ان سے پوچھا۔کھوجی لنگر میں کھانا پک گیا جو باہر ہے اور صاحب بہادر نے منظور کرلی۔آپ نے پوچھا اچھا د عوت تو کر دی جائے گا۔انہوں نے زور سے کہا۔کہاں پک گیا۔یہاں کوئی توجہ کرتا ہے۔مگر یہ تو بتاؤ کہ ان کی دعوت میں کیا کیا ہو گا انہوں نے کہا۔کچھ میوہ کچھ دعوت تو کر دی۔اب سب آرام سے پلنگوں پر جابیٹھے ہیں کسی نے توجہ ہی بسکٹ ، کچھ اور کچھ تو آپ کا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا اور فرمایا یہ کچھ اور کچھ نہیں کی۔آپ نے فرمایا۔وہ کام ہی کیا ہے۔صرف دو دیگیں پکتی ہیں۔کیا۔ہم ہر گز پسند نہیں کرتے کہ وہ امرا کے سے تکلفات کریں۔کیونکہ ایک زردہ کی ایک پلاؤ کی۔میر صاحب نے پھر زور سے کہا۔حضرت یہ الہام الہی نے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ تیرے آباو اجداد کا سلسلہ قطع کر کے تجھ لوگ باتیں ہی بناتے ہیں کرتے کچھ نہیں سب لیٹ گئے ہیں۔حضرت سے نیا سلسلہ جاری کیا جائے گا۔میرے خاندان کو یہ بات حاصل تھی۔مگر صاحب نے تبسم لب ہو کر فرمایا کہاں کا بڑا کام ہے ، صرف دو دیگیں پکنی اب میں نے یہ بات الہام الہی کی وجہ سے چھوڑ دی۔ہنس کر فرمایا۔اب تو یہ ہیں۔میر صاحب نے پھر زور سے کہا۔حضرت یہ لوگ بڑے ست ہیں۔کام فقیر کا لنگر ہے اور جاؤ صاحب فنانشل کمشنر بہادر سے عرض کردو کہ فقیر کے کی طرف توجہ نہیں کرتے اور نہ کام ہو تا ہے۔کام تو جب ہی ہوتا ہے جب لنگر سے پکا پکا یا کھانا ملے گا۔اگر چاہیں دعوت منظور کر لیں۔جب حضرت کوئی کرے۔ادھر ادھر پھرنے سے کام نہیں ہو تا۔یہ بات میر صاحب نے صاحب نے یہ فرمایا تو خواجہ صاحب چپ ہو گئے۔جب حضرت صاحب نے زور سے کہی۔میں نے دیکھا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا رنگ دیکھا کہ یہ نہیں اٹھے۔تو آپ نے کسی اور دوست کی طرف اشارہ کر کے سرخ ہو گیا۔آپ نے سر مبارک ذرا اوپر کو اٹھایا اور ایک خاصی زور کی فرمایا۔جاؤ تم جاکر صاحب بہادر سے عرض کر دو۔کہ مرزا صاحب نے فرمایا آواز سے بولے وہ آواز میرے دل میں دھنس گئی۔آپ نے میر صاحب کی ہے کہ یہ فقیر کا لنگر ہے اور اس سے پکا پکا یا کھانا ملے گا۔چنانچہ وہ دوست فوراً طرف آنکھ اٹھا کر فرمایا :- چلے گئے اور جاکر صاحب بہادر سے عرض کر دی۔انہوں نے منظور فرمالیا۔انہوں نے واپس آکر حضرت صاحب سے عرض کی۔آپ نے فرمایا۔ایک دیگ زردہ اور ایک پلاؤ کی پکوا کر وہاں بھیج دو۔اور حضور اندر تشریف لنگر میں درد یگیں پکوا دیں ایک زردہ کی۔ایک پلاؤ کی۔میر صاحب نے عرض کیا۔بہت اچھا حضرت۔پھر آپ اندر تشریف لے گئے۔تین چار بجے کے قریب حضرت صاحب فنانشل کمشنر صاحب بہادر سے