سیرت احمد

by Other Authors

Page 111 of 131

سیرت احمد — Page 111

209 208 (۱۸۸۹ء میں) نے کہا کہ میں پیر صاحب سے ارادت رکھتا ہوں اگر ان کو کوئی گالیاں دے تو ۱۸۸۹ء میں جب حضور نے بیعت لینے کا اعلان فرمایا تو ہمارے قصبے سنور مجھے کتنا برا لگے گا۔مگر وہ باز نہ آئے اور پھر گالیاں دینی شروع کیں۔میں سے نو آدمیوں نے اسی سال بیعت کی۔نے پھر منع کیا انہوں نے تیسری بار پھر گالیاں دینا شروع کیں اس پر مجھے غصہ چونکہ ۱۸۸۴ء سے حضور کا ذکر ہمارے گھروں میں رہتا تھا اور ۱۸۸۹ء آیا اور میں نے دونوں کو مارنا شروع کیا۔وہ مجھے مارنے لگے۔شور پڑ گیا۔پیر میں کئی آدمی بیعت میں شامل ہو گئے تھے۔میں اس بچپن کے زمانے میں یہ صاحب نے اندر سے تشریف لائے اور پوچھا کیا بات ہے ؟ میں نے کہا۔یہ سمجھ کے کہ بیعت تو کرنی چاہئے۔خواہ کسی کی کرلی جائے جو یہاں قریب ہو۔حضرت مرزا صاحب کو گالیاں نکالتے ہیں گورہ میرے کوئی پیر نہیں ہیں لیکن اتنی دور قادیان کون جائے۔اور چونکہ والد صاحب نے اس وقت بیعت کسی بزرگ کو پس پشت گالیاں نکالنا برا ہے اس لئے ان کو منع کیا۔انہوں نہیں کی تھی۔اس واسطے میں ایک سید پیرزادہ صاحب سے ارادت رکھتے نے ناراض ہو کر مجھے فرمایا کہ یہ سید زادے ہیں آپ نے ان کو کیوں مارا۔ہوئے ان کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا۔ان سے جب بیعت کی میں نے جوابا کہا کہ یہ سید زادے نہیں۔یہ چہار زادے ہیں جو خواہ مخواہ درخواست کی تو انہوں نے فرمایا کہ جب بالغ ہو جاؤ گے تو پھر بیعت کر لینا۔وہ کسی کو گالیاں دیتے ہیں۔یہ کہہ کر میں اپنے گھر چلا آیا۔اور گھر پر آکر میں قوالی وغیرہ کی مجالس میں ساتھ لے جایا کرتے تھے۔نماز وہ ضرور پڑھتے نے تصرف الہی کے ماتحت ہی ایک پوسٹ کارڈ لے کر بیعت کا خط حضرت تھے۔لیکن اکثر وقت چو سر شطرنج اور تاش ہمارے لڑکوں کے ساتھ کھیلتے مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں تحریر کر دیا۔مولوی محمد یوسف صاحب رہتے تھے۔۱۸۹۸ء میں میں صبح کے وقت ان کی بیٹھک میں گیا۔وہاں ان کو جن کا ذکر " ازالہ اوہام " میں ہے۔ان کو جب میری بیعت کا علم ہوا۔تو کے دو برادر زادے علی حسین اور علاؤ الدین بیٹھے تھے۔پیر صاحب اندر انہوں نے میری تربیت شروع کر دی۔اور صبح تہجد کے وقت مکان پر سے تھے۔ان کا نام عبد الحق تھا اور جھنڈو سے معروف تھے۔ہم تینوں تاش کھیلنے اٹھا کر لے جاتے تھے۔اور مسجد میں اپنے ساتھ تہجد پڑھاتے تھے اور انہوں لگ گئے۔تاش کھیلتے وقت ان دونوں نے حضرت مسیح موعود کا ذکر شروع نے مجھے سلسلے کے لٹریچر سے واقفیت پیدا کرائی۔میں اپنی بیعت کو ان دونوں کیا۔اور دریدہ دہنی اور گندہ زبانی سے آپ کو گالیاں دینے لگے۔میں نے واقعات کی بناء پر جو حضور نے مجھے گود میں لیا تھا اور مصافحہ کیا تھا۔سمجھتا ان سے کہا کہ ہمارے خاندان کے کئی بزرگوں نے ان کی بیعت کی ہوئی ہوں کہ وہی میری بیعت کا موجب ہو گئے۔قریباً ایک سال کے اندر کا ہی ہے۔وہ نیک اور بزرگ ہیں۔اور آپ سید زادے ہیں۔اس لئے فحش واقعہ ہے کہ میں بٹھنڈے میں نقشہ نویسی کا کام سیکھتا تھا۔وہاں ہمارے سنور کلامی سے احتراز کریں۔پس پشت گالیاں دینا شرافت سے بعید ہے۔میں کا ایک شخص مجھے مکان پر ملا۔اس کو میں نے تبلیغ کی۔دوران گفتگو میں اس