سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 84
سيرة النبي م 84 جلد 4 سے پاکیزگی میں کم نہیں۔میری روح وجد میں آگئی ، میرا دل خوشی سے ناچنے لگا میں نے کہا صَدَقْتَ يَارَسُوْلَ اللهِ انصاف اس کا نام ہے، عدل اس کو کہتے ہیں۔میرے دل سے پھر ایک آہ نکل گئی اور میں نے کہا طاقت ور کے ساتھی تو سب ہوتے ہیں مگر یہ آواز معذوروں کے لئے بھی رحمت ثابت ہوئی۔آئندہ نسلوں کے لئے رحمت میں کہاں کہاں تم کو اپنے ساتھ لئے پھروں میں نے اس عالم خیال میں بیسیوں اور مقامات کی سیر کی لیکن اگر میں ان کیفیات کو بیان کروں تو یہ مضمون بہت لمبا ہو جائے گا اس لئے میں اب صرف ایک اور نظارہ کو بیان کر کے اس مضمون کو ختم کرتا ہوں۔میرے دل میں خیال آیا کہ یہ غیبی آواز ماضی کے لئے بھی رحمت ثابت ہوئی اور حال کے لئے بھی مگر اس کا معاملہ مستقبل کے ساتھ کیسا ہے۔میں نے کہا آئندہ نسلیں لوگوں کو اپنی جانوں سے کم پیاری نہیں ہوتیں۔ماں باپ خود فنا ہونے کو تیار ہوتے ہیں بشرطیکہ ان کی اولا د بچ جائے بلکہ سچ پوچھو تو وہ ہر روز اپنے آپ کو اولاد کی خاطر تباہی میں ڈالتے رہتے ہیں۔پھر ماضی اور حال کسی کو کب تسلی دے سکتے ہیں جبکہ مستقبل تاریک نظر آتا ہو، جبکہ آئندہ نسلیں فلاح و کامیابی کی راہوں پر چلنے سے روک دی گئی ہوں۔میں نے کہا یہ نہیں ہو سکتا ، یہ تو انسانی فطرت کے خلاف ہے کہ کوئی اپنی نسلوں کی تباہی پر راضی ہو جائے اس لئے مستقبل کے متعلق تو ضرور سب مذاہب متحد ہوں گے اور اس مقدس وجود سے ان کو اختلاف نہ ہوگا جو دوسرے امور میں ان سے اختلاف کرتا رہا ہے اور ان کے لئے صحیح عقیدہ یا صحیح عمل پیش کرتا رہا ہے۔تب میں نے عالم خیال میں ہندو بزرگوں سے سوال کیا کہ آئندہ نسلوں کے لئے آپ میں کیا وعدے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ وید آخری اور اوّل کتاب ہے اس کے بعد اور کوئی کتاب نہیں۔میں نے کہا میں تو کتاب کے متعلق سوال نہیں کرتا میں تو یہ پوچھتا ہوں کہ جو پہلوں نے دیکھا کیا آئندہ نسلوں کے لئے بھی اس کے دیکھنے کا امکان