سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 85
سيرة النبي علي 85 جلد 4 ہے؟ وید دوبارہ نازل نہ ہوں لیکن ویدوں نے جو عجائبات پہلے لوگوں کو دکھائے کیا ویسے ہی عجائبات پھر بھی دنیا کے لوگ دیکھیں گے اور اپنے ایمان تازہ کریں گے؟ انہوں نے کہا کہ افسوس! ایسا نہیں ہوسکتا۔آخر ویدوں کے زمانہ جیسا زمانہ اب دنیا کو کس طرح مل سکتا ہے۔میں نے بدھوں سے سوال کیا اور انہوں نے بھی کوئی ایسی امید نہ دلائی۔زرتشتی لوگوں نے بھی اس پرانے اچھے زمانے کا وعدہ اپنی اولا دوں کے لئے نہ دیا۔یہود نے کہا زکریا تک تو خدا تعالیٰ کا کلام لوگوں پر اتر تا رہا اور اس کے معجزات لوگوں کے ایمان تازہ کرتے رہے ہیں لیکن اب ایسا نہیں ہوسکتا۔مسیحیوں نے کہا حواریوں تک تو روح القدس اترا کرتا تھا مگر اب اس نے یہ کام ترک کر دیا ہے۔میں نے کہا اور آئندہ نسلیں؟ کیا اب وہ محروم رہیں گی؟ کیا اب ان کے ایمانوں کو تازہ کرنے کے لئے کوئی سامان نہیں؟ انہوں نے کہا کہ افسوس ! اس رنگ میں اب کچھ نہیں ہو سکتا۔میں حیران تھا کہ لوگ کس طرح اپنی اولادوں کو محروم کرنے پر رضا مند ہو گئے اور وہ کیوں خدا تعالیٰ کے آگے نہ چلائے کہ اگر اولاد کی محبت دی ہے تو ان کی ترقی کے سامانوں کے وعدے بھی تو کر۔مگر میں نے دیکھا ان لوگوں میں کوئی حس نہ تھی وہ اس پر خوش تھے کہ خدا کا کلام نَعُوذُ بِاللہ کوئی لعنت تھا کہ شکر ہے اس سے ان کی اولادوں کو نجات ملی۔میں دلگیر و افسردہ ہو کر ان لوگوں کی طرف سے ہٹا اور میں نے کہا وہ نور بھی کیا جس کی روشنی بند ہو جائے اور وہ خدا ہی کیا جس کی جلوه گری ماضی میں ہی ختم ہو جائے کہ پھر میں نے اسی موہنی پیاری دلکش آواز کو بلند ہوتے ہوئے پایا۔پھر اسے ایک انداز دلربائی سے یہ کہتے ہوئے سنا کہ جو نعمت ہم نے پائی اسے اپنے تک محدود نہیں رکھا بلکہ ہمیشہ کے لئے بنی نوع انسان میں تقسیم کر دیا۔خدا تعالیٰ کی نعمتیں ماضی سے تعلق نہیں رکھتیں بلکہ وہ اسی طرح مستقبل کا بھی رب ہے جس طرح ماضی کا۔جو کوئی بھی اس سے سچا تعلق رکھے گا اس کا کلام اس پر نازل ہوگا، اس کے نشانات اس کے لئے ظاہر ہوں گے، اس کی محبت محدود نہیں کہ وہ اسے گزشتہ