سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 82 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 82

سيرة النبي علي 82 جلد 4۔پر اس طرح چلتے تھے جس طرح تیز گھوڑا دوڑتا ہے۔مگر باوجود ان کے اچھے ارادوں اور میسر شدہ سامانوں کے مطابق کوشش کرنے کے پھر بھی وہ اس قسم کے عمل نہیں کر سکتے تھے جو تندرست اور طاقت رکھنے والے لوگ کر سکتے ہیں اور اس لحاظ سے وہ ظاہر بینوں کی نگہ میں نکمے اور ناکارہ نظر آتے تھے۔میں نے دیکھا ان کو ہاتھوں کے نہ ہونے کا اس قدر صدمہ نہ تھا جس قدر اس کا کہ وہ ان نیک کاموں کو بجا نہیں لا سکتے کہ جن میں ہاتھ کام آتے ہیں، انہیں آنکھوں کے جانے کا اس قد رصدمہ نہ تھا جس قدر اس کا کہ وہ ان نیک کاموں سے محروم ہیں جن میں آنکھیں کام آتی ہیں غرض ہر کمزوری جو ان میں پائی جاتی تھی خود اس کمزوری کا ان کو احساس نہ تھا لیکن اس کمزوری کے نتیجہ میں جس قسم کی نیکیوں سے وہ محروم رہتے تھے ان کا اُن کو بہت احساس تھا۔میں نے ان لوگوں کو ہزار بدصورتیوں کے باوجود خوبصورت پایا اور ہزار عیبوں کے باوجود کامل دیکھا اور میں جوش سے کہہ اٹھا کہ باوجود مذاہب کے اختلاف کے اس میں تو کسی کو اختلاف نہ ہوگا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی نہایت خوبصورت مخلوق ہے۔ان کے عیب پر ہزار کمال قربان ہو رہا ہے اور یہ لوگ ثابت کر رہے ہیں کہ اگر خدا تعالیٰ فضل کرے تو میلے کے ڈھیر پر بھی پاکیزہ روئیدگی پیدا ہوسکتی ہے۔مگر میری حیرت کی حد نہ رہی کہ جب ایک جماعت مجھ سے اس بارہ میں بھی اختلاف پر تیار ہو گئی اور بعض نے کہا کہ ایسے ناپاک لوگوں کو آپ اچھا کہتے ہیں ان سے تو الگ رہنے کا حکم ہے اور ان کے ساتھ مل کر کھانا تک نا جائز ہے اور نہ ان سے چھونا درست ہے۔ایک اور جماعت بولی یہ اپنے گزشتہ اعمال کی سزا بھگت رہے ہیں۔یہ خدا تعالیٰ کے پیارے کس طرح ہو گئے بلکہ انہوں نے ان کے گناہ تک گنائے کہ گزشتہ زندگی میں فلاں گناہ کر کے آنکھیں ضائع ہوئیں، فلاں گناہ کر کے کان ضائع ہوئے وغیرہ ذَالِکَ۔اور بعض نے ہنس کر کہا کہ خیر یہ تو بیوقوفی کی باتیں ہیں اصل میں ان پر دیوسوار ہیں۔ہمارے خداوندان دیووں کو نکالا کرتے تھے اور ان کے بعد ان