سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 79
سيرة النبي عمال 79 جلد 4 کمزوری منسوب نہیں کرتے۔اور میں نے لوگوں کو اس لئے بھی دوسروں پر جبر کرتے دیکھا کہ وہ کیوں تسلیم نہیں کرتے کہ خدا تعالیٰ بھی جھوٹ بول سکتا ہے۔آہ ! یہ ایک بھیا نک نظارہ تھا جسے دیکھ کر میری روح کانپ گئی اور میں نے کہا آخر ان نبیوں کے آنے کا کیا فائدہ ہوا۔یہ شریعتیں کس مصرف کی ہیں کہ ان کے باوجود یہ ظلم ہو رہے ہیں اور میں ابھی اسی سلوک پر حیرت کر رہا تھا کہ میں نے دیکھا بعض لوگ عبادت کے لئے عبادت گاہوں کی طرف آنا چاہتے تھے کہ بعض دوسرے لوگوں نے ان کو روکا اور کہا کہ تم کو کس نے کہا ہے کہ ان مقدس مقامات کو نا پاک کرو اور کیا تم کو شرم نہیں آتی کہ جب کہ تم عشائے ربانی میں فطیری کی جگہ خمیری روٹی استعمال کرتے ہوئے یا مقدس اشیاء کو دستانے پہن کر پکڑ لیتے ہو تم ہماری عبادت گاہوں میں داخل ہو کر انہیں نجس کرنا چاہتے ہو۔غرض اسی قسم کی باتیں تھیں جن پر میں نے دیکھا کہ لوگ ایک دوسرے کو عبادت گاہوں سے روک رہے تھے اور نتیجہ یہ تھا کہ لوگوں کی توجہ عبادت سے ہی ہٹ رہی تھی۔پھر میں نے دیکھا کہ بعض لوگ اس سے بھی آگے بڑھ گئے اور انہوں نے ثواب کا سب سے بڑا کام یہ سمجھا کہ جہاں موقع ملا دوسروں کی عبادت گاہ گرا دی۔یہودی مسیحیوں کی عبادت گاہیں اور مسیحی یہودیوں کی اور بدھ ہندوؤں کی اور ہندو بدھوں کی عبادت گاہیں گرا رہے تھے اور اپنے اعمال پر فخر کر رہے تھے اور ہر اک شخص یہ خیال کرتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی بخشش کا پیمانہ اس کے لئے دوسری اقوام کی عبادت گاہوں کے گرانے کے کام کے مطابق وسیع ہوگا۔آہ! یہ مقدس جذبات کی بے حرمتی کا ایک حیا سوز نظارہ تھا۔ایک دل دہلا دینے والا منظر تھا۔میں نے کہا یہ ترقی ہے جو دنیا نے ان ہزاروں سالوں میں کی ہے جن میں قریباً ہر صدی نے ایک نبی پیدا کیا ہے۔کیا یہ ارتقا ہے جسے علمائے سائنس ہمارے سامنے پیش کرتے ہیں؟ میں شاید نبیوں کے کاموں کی پائیداری کا قائل ہی نہ رہتا اگر وہی پاکیزہ آواز ، مقدس آواز جو پہلے