سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 78
سيرة النبي علي 78 جلد 4 ہے پھر بھی وہ اشتراک اور وہ مناسبت جو ایک دوسرے کے مذاہب میں پائی جاتی ہے اور ان اعلیٰ تعلیمات کی وجہ سے جو ان کی کتب میں بھری پڑی ہیں دنیا میں صلح اور امن کی تو ایک بنیاد قائم ہو گئی ہے۔گو غیریت اور غیرت کی وجہ سے ایک دوسرے کے بزرگوں کو تسلیم نہ کریں لیکن کم سے کم اس اتحاد نے دنیا کولڑائی اور جھگڑوں سے تو ضرور بچا لیا ہوگا۔لیکن میری حیرت کی حد نہ رہی جب میں نے دیکھا کہ بعض لوگ بعض دوسرے لوگوں کو مار پیٹ رہے تھے اور طرح طرح سے دکھ دے رہے تھے کہ تم کیوں اپنا عقیدہ چھوڑ کر ہمارے عقیدے کو قبول نہیں کر لیتے ؟ میں نے دیکھا کہ بعض کو گالیاں دی جا رہی تھیں ، بعض کو پیٹا جارہا تھا ، بعض کا بائیکاٹ کیا جارہا تھا ، بعض پر تمدنی دباؤ ڈالا جا رہا تھا اور بعض پر اقتصادی۔لیاقت تو موجود ہوتی لیکن ملازمت نہ دی جاتی، اچھا مال تو فروخت کرنے کے لئے ان کے پاس ہوتا لیکن ان سے خرید وفروخت نہ کی جاتی ، عدالتوں میں بلاوجہ اور بے قصور ان کو کھینچا جاتا ، بعض کو تو جلا وطن کیا جاتا اور بعض کو تلوار سے ڈرا کر اپنا مذہب چھوڑنے کے لئے کہا جاتا۔میں نے دیکھا کہ بعض دفعہ جس پر جبر کیا جاتا تھا اس کا عقیدہ جبر کرنے والے سے سینکڑوں گنے زیادہ اچھا ہوتا۔بعض دفعہ جبر کرنے والے کے اعمال نہایت گندے ہوتے اور جبر کے تختہ مشق کے اعمال نہایت پاکیزہ ہوتے۔میں حیران ہو کر دیکھتا کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔جب بعض لوگ ان جابروں سے پوچھتے کہ آخر یہ کیا ظلم ہے اور ان لوگوں کو کیوں دکھ دیا جاتا ہے؟ تو لوگ جواب میں کہتے کہ آپ اپنے کام سے کام رکھیں ہم لوگ انصاف کر رہے ہیں اور ظلم نہیں بلکہ حقیقی خیر خواہی کرنے والے ہیں۔اگر مادی طور پر ہم نے کچھ سختی کر لی تو اس کا حرج کیا ہے جب کہ ان کی روح کو ہم نجات دلا رہے ہیں۔میں نے دیکھا کہ یہ ظلم ترقی کرتے کرتے اس قدر بڑھ گیا کہ بعض لوگوں کو صرف اس جرم پر آزار پہنچائے جانے لگے کہ وہ کیوں اپنے رب کی آواز کو سنتے ہیں۔اور بعض کو اس لئے کہ کیوں تو حید کے قائل ہیں اور بعض کو اس لئے کہ کیوں خدا تعالیٰ کی طرف ظلم اور