سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 69 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 69

سيرة النبي عمال 69 جلد 4 نے بدھ جی کے حالات جو سنائے وہ ایسے دلکش اور مؤثر تھے کہ میرا دل بھر آیا اور ان کی محبت میرے دل میں گڑ گئی اور میں نے کہا کہ آپ کے مذہب کے بانی واقعہ میں بڑے آدمی تھے۔انہوں نے خود دکھ برداشت کئے اور دوسروں کو سکھ دیئے، خود تکالیف برداشت کیں اور دوسروں کو آرام پہنچایا، اپنی زندگی کی ہر گھڑی کو بنی نوع انسان کی خیر خواہی میں صرف کیا، ان کے حالات بالکل کرشن جی اور رام چندر جی کی طرح کے ہیں اور وہ بھی انہی کی طرح آسمان روحانیت کے چمکتے ہوئے ستارے ہیں پھر نہ معلوم ہندو لوگ ان کو کیوں اچھا نہیں سمجھتے اور ان کے حسن کی قدر نہیں کرتے۔انہوں نے جواب دیا کہ آپ کو غلطی لگی ہے۔ہمارے گوتم بد ھ اور رام چندر جی اور کرشن جی میں کوئی مناسبت نہیں آپ جو کچھ کرشن جی اور رام چندر جی کی نسبت سنتے ہیں وہ تو قصے اور کہانیاں ہیں۔ہندوؤں کے بزرگ ہمارے مذہب کے بانی کی حقیقت تک کہاں پہنچ سکتے تھے۔میں نے ہر چند اصرار کیا کہ دونوں قوموں کے بزرگوں کے حالات آپس میں مشابہ ہیں اور ان کے مخالفوں کے بھی لیکن بدھ مت کے لوگ نہ مانے اور نہ مانے۔اور میں زرتشتیوں کی طرف متوجہ ہوا اور ان سے پوچھا کہ کیا ان میں بھی کوئی بزرگ گزرا ہے؟ زرتشتیوں نے اپنے بزرگ زرتشت کے احوال سنائے جن کوسن کر میرے دل کی کلی کھل گئی اور میرا سینہ خوشی سے بھر گیا کیونکہ اس مرد نیک سیرت کی زندگی ایک اعلیٰ درجہ کا سبق تھی۔بدی کے خلاف اس کی جدوجہد، نیکی کے قیام کے لئے اس کی مساعی، بندوں کو خدا تعالیٰ کی طرف پھیر لانے کے لئے اس کی تگ و دو کچھ ایسی شاندار تھی کہ منجمد خون میں بھی حرارت پیدا ہوتی تھی ، ساکن دل بھی حرکت کرنے لگتا تھا۔میں نے ان کے احوال معلوم کئے اور بہت ہی فائدہ حاصل کیا۔میں نے کہا وہ بالکل کرشن ، رام چندر، بدھ کا نمونہ تھے اور واقعہ میں اس قابل کہ ان کے نمونہ سے فائدہ اٹھایا جائے اور ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کی جائے۔لیکن میری حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی جب ان کے ماننے والوں نے اس بات کو بہت ہی برا مانا