سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 68 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 68

سيرة النبي عمال 68 جلد 4 ہے اور شکر و امتنان کے جذبہ سے متاثر ہو کر اپنے مربی اور اپنے ہادی کے آگے سجدہ میں گر گئے۔میرے دل سے اس پر پھر ایک آہ نکلی اور میں نے کہا کہ یہ آواز نسلِ انسانی کے لئے بھی رحمت ثابت ہوئی۔گزشتہ انبیاء کے لئے رحمت جب میں نے محسوس کر لیا کہ انسان فطرتا نیک ہے اور اس میں اعلیٰ ترقیات کے جو ہر مخفی ہیں اور خدا تعالیٰ کے قرب کی راہیں غیر محدود ہیں تو میں نے کہا کہ آؤ دیکھیں انسان نے کیسے کیسے باکمال وجود پیدا کئے ہیں اور نسل انسانی کے اعلیٰ نمونوں کا مطالعہ کریں اور دیکھیں انہوں نے کن کن کمالات کو حاصل کیا ہے اور کن بلند یوں تک پرواز کی ہے۔اور میں عالم خیال میں ہندوؤں کی طرف مخاطب ہوا اور ان سے پوچھا کہ آپ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ آپ سب سے قدیم قوم ہیں اور آپ کا مذہب سب سے پرانا ہے کیا آپ کے مذہب میں کوئی باکمال لوگ بھی پیدا ہوئے ہیں؟ مجھے یہ سن کر خوشی ہوئی کہ ہندو قوم میں بڑے بڑے باکمال لوگ گزرے ہیں۔میرے سامنے انہوں نے ویدوں کے رشیوں کی تعریف کی ، منوجی کی خبر دی، بیاس جی سے آشنا کیا، کرشن جی کے حالات سنائے ، رامچند رجی کے واقعات سے آگاہ کیا اور میرا دل ان کی باتوں کو سن کر اور ان کی دنیا کو نیک بنانے کی جدو جہد کو معلوم کر کے بہت ہی لطف میں آیا۔تب میں نے ان سے سوال کیا آپ کے ہمسایہ میں بدھ مت والے بستے ہیں کچھ ان کے بانی کی نسبت بھی مجھے خبر دیں۔انہوں نے کہا کہ وہ تو ایک دھوکا خوردہ انسان تھے کچھ ایسے خدا رسیدہ آدمی نہ تھے۔میں نے کہا کسی اور قوم کے بزرگ کا حال بتائیں لیکن انہوں نے یہی کہا کہ ہمارا مذہب سب سے قدیم ہے اور خدا تعالیٰ نے سب ہدایت ہمارے بزرگوں کی معرفت دنیا کو دے دی ہے۔اس کے بعد اسے کسی اور الہام کے بھیجنے اور معرفت کا رستہ بتانے کی ضرورت ہی کیا تھی۔تب میں بدھ مت والوں کی طرف متوجہ ہوا اور ان سے اس مذہب کے بانی کے حالات پوچھے۔انہوں