سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 67 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 67

سيرة النبي عمال 67 جلد 4 اپنے دوستوں کے بھی اور اپنے ہمسایوں کے بھی اور اپنی قوم کے بھی بلکہ اپنے نفس کے بھی حق رکھے ہیں۔تم ان سب حقوق کو چھوڑ کر اگر رہبانیت کی زندگی بسر کرتے ہو تو تم ایک نیکی کے ارادے سے دس بدیوں کے مرتکب ہوتے ہو اور گناہ کی دلدل سے نکلنے کی بجائے اس میں اور بھی پھنس جاتے ہو۔تمہارا شادیاں نہ کرنا تم میں عفت نہیں پیدا کرتا۔اگر نسلِ انسانی کے فنا کا ہی نام نیکی ہوتا تو خدا تعالیٰ انسان کو پیدا ہی کیوں کرتا۔کیا تم اس کام میں نقص نکالتے ہو جو خدا تعالیٰ نے کیا اور اس کی پیدائش میں تغیر کرتے ہو۔یاد رکھو کہ نیکی یہ نہیں کہ تم نفس کو بلا وجہ دکھ دو اور دروازوں کی موجودگی میں دیواریں پھاند کر آؤ۔بلکہ نیکی یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کو اس کی بتائی ہوئی حد بندیوں کے اندر استعمال کرو تا تمہارے اندر صالح خون پیدا ہو اور تم نیک اعمال پر قادر ہو جاؤ۔میں نے دیکھا یہ بات اس قدر خوبصورت اور یہ نصیحت ایسی پاکیزہ تھی کہ انسانوں کے مرجھائے ہوئے چہروں پر رونق آ گئی اور وہ وحشت زدہ مخلوق جو اپنے سایوں سے بھی ڈر کر بھا گئی تھی اس نے پھر انسانیت کا جامہ پہن لیا اور خدا کی بنائی ہوئی خوبصورتی کو ایک نئی نگہ سے دیکھنا شروع کیا۔وہ جو ہر شے کو اپنا دشمن سمجھتے تھے اور ہرحسن میں شیطان کا ہاتھ پوشیدہ دیکھتے تھے اور دنیا کو دشمنوں سے گھرا ہوا خیال کرتے تھے اور اپنے آپ کو تن تنہا سمجھتے ہوئے بوکھلائے ہوئے پھرتے تھے میں نے دیکھا ان کے چہروں سے اطمینان ظاہر ہونے لگا۔بجائے ہر چیز کو زہر خیال کرنے کے تریاق کی خوبیاں بھی انہیں نظر آنے لگیں اور بجائے اپنے آپ کو دشمنوں میں گھرا ہوا محسوس کرنے کے وہ یہ محسوس کرنے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر قدم پر ان کے مددگار پیدا کئے ہیں اور ہر پڑاؤ پر ان کی رہنمائی کے لئے علامتیں لگائی ہیں۔تب انہوں نے اپنی جلد بازیوں پر ندامت کا اظہار کیا اور اپنی بیوقوفیوں پر افسوس کا اور خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرنے لگے کہ اس نے دنیا کو ہمارے دشمنوں سے نہیں بھرا بلکہ دوستوں سے معمور کیا