سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 49
سيرة النبي علي 49 جلد 4 صلى الله قرآن مجید سے معارف اور نئے نئے علوم نکالنے اور رسول کریم علیہ کے حقیقی فضائل بیان کرنے کی طرف توجہ نہ کریں تو کس قدر افسوس ناک بات ہوگی۔رسول کریم ﷺ کے متعلق اگر یہ بیان کیا جائے کہ آپ کا رنگ کیسا تھا تو چونکہ رنگ نہیں بدلتا اس لئے اتنا جاننا ہی کافی ہوتا ہے کہ آپ کا رنگ کالا تھا یا گورا۔لیکن معارف چونکہ زمانے کے تغیر کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں اور ان کے متعلق محنت کرنی پڑتی ہے اس لئے لوگ اس طرف آنے سے جی چراتے ہیں۔یا مثلاً یہ امر کہ رسول کریم ﷺ کے بال کندھوں سے اونچے تھے یا نیچے ایک معمولی بات ہے ہر شخص اسے ایک دفعہ بھی سن لے تو یا د رکھ سکتا ہے۔لیکن یہ کہ آپ نے کس کس رنگ میں قربانیاں کیں ، بنی نوع انسان سے آپ کے تعلقات کس قسم کے تھے ، پھر بنی نوع انسان کے علاوہ ہر فرد سے آپ کا علیحدہ علیحدہ سلوک تھا، زید کا بھی آپ سے تعلق تھا۔اور اگر ہم غور کریں گے تو ہمیں معلوم ہوگا کہ رسول کریم ﷺ نے اس کے لئے بھی کچھ قربانیاں کی ہیں۔اسی طرح ہر صحابی کے متعلق غور کیا جا سکتا ہے اور نئی نئی باتیں نکالی جا سکتی ہیں۔پھر اگر ہم دیکھیں کہ رسول کریم ﷺ نے کس طرح انسانی فطرت کی گہرائیوں کا مطالعہ کر کے دعائیں سکھائی ہیں۔اور اس مضمون کے ماتحت قرآن مجید پر غور کیا جائے تو سینکڑوں مضامین سامنے آنے شروع ہو جائیں گے۔غرض اس طریق کے ماتحت کام کرو۔اور جب شعر پڑھو تو اچھے شعر پڑھو۔اسی طرح اگر خود اشعار بناؤ تو اچھے اشعار بناؤ۔پرانے لوگوں میں سے بھی بعض نے رسول کریم ﷺ کی مدح میں نہایت اچھے اشعار کہے ہیں۔اگر ہم ان سے بھی فائدہ اٹھالیں تو یہ اچھی بات ہوگی۔میں نے اب کی دفعہ سیرت النبی کے جلسہ کی آمد سے دو دن پہلے یہ بات سنا دی ہے۔اب بھی اگر جلوس میں اس قسم کے اشعار پڑھے گئے یا تختوں پر مجھے لکھے نظر آگئے تو میں جھنڈے وہیں رکھوا لوں گا اور ایسے لوگوں کو جلوس سے الگ کرا دوں گا کیونکہ یہ صلى الله رسول کریم ﷺ کی ہتک کرنے والی بات ہے۔آپ کا اصل مقصد تو حید کا قیا