سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 50 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 50

سيرة النبي علي 50 جلد 4 تھا۔اس پر جتنا جی چاہے زور دو۔مگر توحید کے صرف یہ معنے نہیں ہوتے کہ اللہ ایک ہے۔اگر پتھر ایک ہو تو کیا یہ بڑی خوبی کی بات سمجھی جاسکتی ہے؟ اس کے معنے یہ ہیں کہ دنیا کے تمام حسن اس ایک خدا کے سامنے بیچ ہیں۔جب اس کے سامنے اچھی۔اچھی چیز بھی جاتی ہے تو ماند پڑ جاتی ہے اور اکیلا خدا ہی نظر آتا ہے۔پس ایک ہونے کا یہ مفہوم ہے کہ وہ تمام صفاتِ حسنہ میں منفرد ہے اور ساری چیزیں اس کے سامنے پھیکی پڑ جاتی ہیں۔یہی وہ مفہوم ہے جسے دنیا کے ذہن نشین کرنے کے لئے انبیاء آتے ہیں۔جب اس مفہوم کو اپنے دل میں بٹھاؤ گے تو اللہ تعالیٰ کی محبت تمہارے دل میں قائم ہوگی اور اس کا قرب تمہیں حاصل ہوگا۔پس یاد رکھو تمام ترقیات کا گر توحید ہے۔اللہ تعالیٰ کے حسن کو ایسے رنگ میں ظاہر کرنا کہ باقی تمام حسن اس کے سامنے بے حقیقت ہو جائیں اسی طرح جس طرح سورج کے سامنے ستارے ماند پڑ جاتے ہیں اور نظروں سے غائب ہو جاتے ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ۔یہ توحید کا مفہوم ہے۔یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ باقی چیزیں معدوم ہو جاتی ہیں کیونکہ جسے خدا نے بنایا وہ معدوم کیسے ہوسکتا ہے۔مگر خدا تعالیٰ کا حسن اس قدر ظاہر ہو کہ باقی تمام حسن ماند پڑ جائیں اور سوائے اللہ تعالیٰ کے حسن کے اور کوئی حسن نظر ہی نہ آئے یہی تو حید ہے۔اور جس وقت یہ مقام حاصل ہو جاتا ہے اُس وقت انسان کا دل کسی انسان کی محبت کے لئے فارغ نہیں ہوسکتا۔یہ تعلیم ہے اسے دنیا کے سامنے پیش کرو۔رسول کریم ﷺ کی وہ قربانیاں ظاہر کرو اور آپ کی ان خدمات کو پیش کرو جو آپ نے نوع انسان کے لئے کیں۔ورنہ اگر یوں کرو گے تو ہندوؤں کے بازار میں سے گزرتے ہوئے یا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّدُ کہو گے تو وہ سمجھیں گے یہ صلى الله پاگل ہو گئے ہیں۔لیکن اگر تم یہ بیان کرو گے کہ غیر قوموں پر رسول کریم ﷺ نے کیا کیا احسانات کئے تو وہ بے اختیار آپ کے مداح ہو جائیں گے۔تو تم تجربہ کر کے دیکھ لو کہ ان میں سے کون سا رسول کریم ﷺ کی محبت پیدا کرنے والا نسخہ ہے۔تمہیں معلوم