سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 44 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 44

سيرة النبي علي 44 الله جلد 4 پر اشاعت اسلام کا کام نہیں ہوا تھا مگر باوجود اس کے رسول کریم ﷺ نے سمجھا جتنا کام آپ نے کرنا تھا وہ کر چکے اور آپ کی خواہش ہے کہ اب اللہ تعالیٰ کے پاس چلے جائیں۔لیکن حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ کو مرض الموت میں سخت تکلیف ہوئی۔آپ بار بار فرماتے اللہ تعالیٰ یہود و نصاریٰ پر لعنت کرے کہ انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا 2۔گویا با وجود اللہ تعالیٰ سے ملنے کی خواہش کے جس بات سے آپ کی زندگی کی آخری گھڑیاں تکلیف میں گزریں وہ یہی تھی کہ کہیں میری امت شرک میں گرفتار نہ ہو جائے۔پس اس میں رسول کریم ﷺ کی عظمت نہ ہو گی اگر ہم اس رنگ میں آپ سے محبت کا اظہار کریں جس میں مشرکانہ رنگ پایا جاتا ہو۔بلکہ میں سمجھتا ہوں رسول کریم ﷺ کی نگاہ میں ابو جہل کے تمام مظالم اور وہ ایذائیں جو اس نے آپ کو دیں ، آپ کا گلا گھونٹا، آپ پر گند پھینکا اور آپ کو ہر رنگ میں مشکلات و مصائب میں مبتلا کیا حقیر ہوں گی اس امر کے مقابلہ میں کہ آپ کی ذات کے متعلق کسی قسم کا شرک کیا جائے۔مگر میں نے دیکھا ہے یہاں جو جلوس نکلتا ہے اس میں بعض قطعات پر لکھا ہوتا ہے يَا مُحَمَّدُ حالانکہ رسول کریم ع کے وفات پاچکے اور اب وہ دنیا میں واپس نہیں آسکتے۔پس یا مُحَمَّدُ کہنا ہرگز جائز نہیں۔ہاں بعض دفعہ کشفی طور پر ایک انسان رسول کریم ﷺ کو اس طرح مخاطب کرتا ہے تو وہ روحانی کیف ہے جو ہر شخص کو میسر نہیں آتا۔مگر جب کوئی شخص اس کیف سے خالی ہو کر یا مُحَمَّدُ کہتا ہے تو وہ نقل کرتا اور مشرکانہ رنگ اختیار کرتا ہے۔اسی طرح میں نے دیکھا ہے کہ کچھ تختے ہوتے ہیں ان پر بھی يَا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّدُ لکھا ہوتا ہے۔بھلا یا مُحَمَّدُ کہنے سے کیا رسول کریم ﷺ تشریف لے آئیں گے؟ اگر تم یا الله کہو تو بات بھی ہے کیونکہ تمہارا خدا ہر وقت تمہارے پاس ہے لیکن اگر تم صلى الله يَا مُحَمَّدُ کہتے ہو تو یہ فضول بات ہے۔رسول کریم ﷺ فوت ہو چکے اور جیسا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا تھا جو محمد اللہ کی عبادت کرتا تھا وہ سمجھ لے کہ آپ صلى الله