سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 40 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 40

سيرة النبي علي 40 جلد 4 صاف طور پر ان کے طرز سے ہی پتہ لگ جاتا ہے کہ یہ لوگ دل سے نہیں رو ر ہے۔کیونکہ وہ ایک طرف تو روتے جاتے ہیں اور پھر تھوڑی دیر کے بعد دوسروں کی طرف آنکھ اٹھا کر تماشا دیکھنے لگ جاتے ہیں۔گو ان کی زبان پر افسوس کے الفاظ ہوتے ہیں مگر ان کی نگاہ غم سے خالی ہر طرف گھوم رہی ہوتی ہے۔اور ہر شخص انہیں دیکھ کر کہتا ہے کہ خبر نہیں انہیں کیا ہو گیا۔یہ پاگل ہو گئے ہیں یا حد درجہ کے لالچی ہیں کہ چند پیسوں کے عوض رو رہے ہیں۔غرض ایک ہی چیز ہے مگر پہلے اخلاص اور عقیدت کے اظہار کے ذریعے سمجھی گئی اور بعد میں تصنع کی صورت اختیار کر گئی۔جس پر آج تک یورپین مصنفین ہنسی اڑاتے ہیں۔صلى الله ہم نے رسول کریم ﷺ کی سیرت پر جلسے منعقد کرنے کیلئے جو دن مقرر کیا ہے اس کی ایک ہی غرض ہے۔اور وہ یہ کہ لوگوں کو معلوم ہو رسول کریم ﷺ نے بنی نوع انسان پر کیا کیا احسانات کئے۔آپ نے کیا کیا قربانیاں کیں اور کس رنگ میں لوگوں کے سامنے ایک مکمل ضابطہ پیش کیا۔اس دن کا یہ مطلب نہیں کہ اسے تما شا بنا لیا جائے اور دلچسپی کا ایک ذریعہ سمجھ لیا جائے۔اگر ہم ایسا کریں گے تو پھر رسول کریم ﷺ کی عظمت کے لئے لوگ اکٹھے نہیں ہوں گے بلکہ تماشا دیکھنے کے لئے آئیں گے۔فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ کچھ دلیر ہوتے ہیں وہ تھیڑ میں تماشا دیکھ لیتے ہیں اور کچھ منافق مولوی ہوتے ہیں وہ رسول کریم ﷺ کے نام کی آڑ میں اپنی خواہشات کو پورا کرنا چاہتے ہیں۔پس اس رنگ میں سوائے اس کے کہ لوگ منافق ثابت ہوں اور کیا ظاہر ہوسکتا ہے۔گو رسول کریم ﷺ کے نام کے پردہ کے پیچھے ایکٹ کو کسی صورت میں بھی برداشت نہیں کیا جا سکتا۔میں قریباً ہر سال کہتا رہا ہوں کہ جماعت کو ایسا رنگ اختیار کرنے سے پر ہیز کرنا چاہئے۔منتظمین ہاں ہوں بھی کر دیتے ہیں مگر باوجود اس کے ہر سال قادیان کے منتظمین اس کا خیال نہیں رکھتے کسی ایسے جلوس کا نکلنا جس میں رسول کریم علیہ کے اعمال واقوال کو خوبصورت