سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 487
سيرة النبي عمال 487 جلد 4 وعدے تدبیر کامل کے بعد پورے ہوا کرتے ہیں۔پھر اسی لڑائی میں باوجود کامیابی کے وعدے کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اور اتنی دعا کی کہ آخر آپ کی زبان پر یہ الفاظ جاری ہو گئے کہ اے خدا! مسلمانوں کی تھوڑی سی جماعت اس وقت دشمن کی ایک کثیر جماعت کے مقابلہ میں ہے۔اے اللہ ! اگر یہ لوگ بھی مارے گئے تو پھر دنیا میں تیرا نام لینے والا کوئی باقی نہیں رہے گا۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ جو اُس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پہرہ دے رہے تھے اُنہوں نے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے یہ فقرہ سنا تو انہیں چبھا اور اُنہوں نے کہا يَا رَسُولَ الله ! کیا خدا کا ہم سے یہ وعدہ نہیں کہ ہم فتح پائیں گے؟ آپ نے فرمایا بے شک خدا کا یہ وعدہ ہے کہ وہ ہمیں فتح دے گا مگر خدا غنی بھی ہے اور بندے کا پھر بھی یہی کام ہے کہ وہ دعا میں لگا رہے 3۔پس باوجود کامیابی کے وعدہ کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تدبیریں بھی کیں، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا ئیں بھی کیں اور اس سوز ، اس درد اور اس گھبراہٹ کے ساتھ کیں کہ آپ کی زبان سے یہ الفاظ نکل گئے کہ اے خدا! اگر آج تیری یہ جماعت ماری گئی تو فَلَنْ تُعْبَدَ فِي الْأَرْضِ أَبَدًا 4۔زمین میں تیری کبھی پرستش نہیں ہو گی۔تو کیا ہمارے ساتھ جو وعدے ہیں وہ اُن وعدوں سے زیادہ اہم ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کئے گئے تھے۔زیادہ سے زیادہ تم یہ کہہ سکتے ہو کہ انہی وعدوں کا یہ تسلسل ہے۔مگر ان وعدوں کے متعلق ہمیں یہ دکھائی دیتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ نے بڑی بڑی قربانیاں کیں۔انہوں نے یہ نہیں کہا کہ مدینہ اگر ابوجہل کے قبضہ میں آ گیا تو پھر بھی ہمارا کوئی نقصان نہیں، اللہ ہماری حفاظت کرے گا۔“ (الفضل 21 اکتوبر 1939ء) :1 السيرة الحلبية جلد 2 صفحہ 376 باب غزوة بدر الكبرى مطبوعہ بیروت لبنان 2012 ء 2: المائدة: 25