سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 484 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 484

سيرة النبي علي 484 جلد 4 الہی وعدوں کے پورا کرنے کے لئے رسول کریم یہ کی قربانیاں اور دعائیں وو حضرت مصلح موعود 13 اکتوبر 1939 ء کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں:۔با وجود وعدے کے باوجود الہی فیصلہ کے، باوجود الہی مشیت اور ارادہ کے اُس وقت تک خدا تعالیٰ کی نصرت نازل نہیں ہوتی جب تک تمام کی تمام قوم قربانی کے لئے تیار نہیں ہو جاتی اور اگر کوئی قربانی کے لئے تیار نہ ہو تو باوجود وعدوں کے وہ انعامات اس قوم کو نہیں دیئے جاتے۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب جنگ بدر کے لئے نکلے تو گل تین سو تیرہ صحابہ آپ کے ساتھ تھے۔وہ بھی ایسے جو فنونِ جنگ سے نا آشنا اور ساز وسامان سے تہی دست تھے۔صحابہ کا پہلے یہ خیال تھا کہ ہماری ایک تجارتی قافلہ سے مڈ بھیڑ ہو گی مگر خدا تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی کہ تجارتی قافلہ سے نہیں بلکہ ملکہ کی مسلح فوج سے مسلمانوں کا مقابلہ ہو گا۔اُن سپاہیوں سے مقابلہ ہو گا جو آزمودہ کار ہیں اور ساز وسامان سے آراستہ و پیراستہ ہیں۔یہ چونکہ پہلی لڑائی تھی اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو جمع کیا اور فرمایا دیکھو! خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ ہمارا مکہ والوں سے مقابلہ ہو گا اس لئے میں تم سے مشورہ لینا چاہتا ہوں۔حالات ایسے ہیں کہ ہمیں بہت زیادہ خطرات کا اندیشہ ہے اس لئے ضروری ہے کہ آپ لوگوں سے مشورہ لے لیا جائے۔ممکن ہے اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں مشورہ لینے کی