سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 483 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 483

سيرة النبي عمال 483 جلد 4 گیا۔اُنہوں نے جب یہ معاہدہ لکھنا شروع کیا تو اُنہوں نے لکھا کہ یہ معاہدہ ایک طرف تو محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اور ان کے ساتھیوں کی طرف سے ہے اور دوسری طرف مکہ کے فلاں فلاں رئیس اور مکہ والوں کی طرف سے ہے۔اس پر کفار بھڑک اٹھے اور اُنہوں نے کہا ہم ان الفاظ کو برداشت نہیں کر سکتے کیونکہ ہم محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو رسول اللہ نہیں مانتے۔اگر مانتے تو ان سے لڑائی کس بات پر ہوتی۔ہم تو ان سے محمد بن عبد اللہ کی حیثیت سے معاہدہ کر رہے ہیں محمد رسول اللہ کی حیثیت سے معاہدہ نہیں کر رہے۔پس یہ الفاظ اس معاہدہ میں نہیں لکھے جائیں گے۔اُس وقت صحابہ کے جوش کی کوئی انتہا نہ رہی اور وہ غصہ سے کانپنے لگ گئے۔اُنہوں نے سمجھا اب خدا نے ایک موقع پیدا کر دیا ہے، رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی بات نہیں مانیں گے اور ہمیں ان سے لڑائی کر کے اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کا موقع مل جائے گا۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ لوگ ٹھیک کہتے ہیں معاہدہ میں سے رسول اللہ کا لفظ کاٹ دینا چاہئے۔علی ! اس لفظ کو مٹا دو مگر حضرت علیؓ ایسے انسان جو فرمانبرداری اور اطاعت کا نہایت ہی اعلیٰ درجہ کا نمونہ تھے ان کا دل بھی کانپنے لگ گیا ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور انہوں نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! یہ لفظ مجھ سے نہیں مٹایا جاتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا لاؤ مجھے کاغذ دو اور کاغذ لے کر جہاں رسول اللہ کا لفظ لکھا تھا اسے ( الفضل 14 ستمبر 1939 ء) 66 اپنے ہاتھ سے مٹا دیا 1۔“ :1 السيرة النبوية لابن هشام الجزء الثانی صفحه 1107 ، 1108 زیر عنوان امر الهدنه مطبوعه دمشق $2005