سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 482 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 482

سيرة النبي علي 482 جلد 4 رسول کریم علیہ کا وسعت حوصلہ حضرت مصلح موعود 8 ستمبر 1939ء کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں:۔کیا ہی عجیب نظارہ ہمیں نظر آتا ہے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صلح حدیبیہ کی مجلس میں تشریف رکھتے تھے اور کفار صلح کے لئے شرائط پیش کر رہے تھے۔صحابہ اپنے دلوں میں ایک آگ لئے بیٹھے تھے اور ان کے سینے ان مظالم کی تپش سے جل رہے تھے جو کفار کی طرف سے ہیں سال سے ان پر کئے جارہے تھے، ان کی تلواریں میانوں سے باہر نکلی پڑتی تھیں اور وہ چاہتے تھے کہ کسی طرح موقع آئے تو ان مظالم کا جو انہوں نے اسلام پر کئے ہیں بدلہ لیا جائے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کفار کی باتیں سنیں اور جب یہ تجویز ان کی طرف سے پیش ہوئی کہ آؤ ہم آپس میں صلح کر لیں تو آپ نے فرمایا بہت اچھا ہم صلح کر لیتے ہیں۔اُنہوں نے کہا که شرط یہ ہے کہ اس سال تم عمرہ نہیں کر سکتے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بہت اچھا اس سال ہم عمرہ نہیں کریں گے۔پھر انہوں نے کہا کہ دوسرے سال جب آپ عمرہ کے لئے آئیں تو یہ شرط ہو گی کہ آپ مکہ میں تین دن سے زیادہ نہ ٹھہریں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بہت اچھا مجھے یہ شرط بھی منظور ہے۔پھر اُنہوں نے کہا کہ آپ کو مسلح ہو کر مکہ میں داخل ہونے کی اجازت نہ ہو گی۔آپ نے فرمایا بہت اچھا ہم مسلح ہو کر مکہ میں داخل نہیں ہوں گے۔صلح کا معاہدہ طے ہو رہا تھا اور صحابہ کے دل اندر ہی اندر جوش سے اہل رہے تھے۔وہ غصہ سے تلملا رہے تھے مگر کچھ کر نہیں سکتے تھے۔حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو صلح نامہ لکھنے کے لئے مقرر کیا