سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 481
سيرة النبي علي 481 جلد 4 صلى الله اس سے کیوں مانگوں میرا کوئی حق تو نہیں۔تو وہ حالت جو رسول کریم ﷺ کی تھی اور وہ بے بسی کی کیفیت جو اس امر سے ظاہر ہوتی ہے کہ رسول کریم سے الگ ایک گوشے میں کھڑے رہتے اور اگر کچھ کھانے کو ملتا تو لے لیتے ، نہیں تو زبان سے کچھ نہ کہتے۔ہماری بچیوں کی حالت اس سے بدرجہا بہتر رہی۔مگر پھر رسول کریم ع کی حالت بھی بدل گئی اور اس میں اتنا زبر دست اور عظیم الشان تغیر آ گیا کہ آپ ہی دنیا کے مالک بن گئے اور تمام جہان آپ کے قدموں میں گر گیا۔اسی طرح ان بچیوں اور ان سے تعلق رکھنے والوں کے بھی اختیار میں ہے کہ وہ اگر چاہیں تو ترقی کر سکتے ہیں اور بہت زیادہ عزت اور عظمت حاصل کر سکتے ہیں۔اگر وہ خدا تعالیٰ کے ہو جائیں تو ان کو بھی عزت مل سکتی ہے اور ان کے غم اور دکھ بھی خوشی سے بدل سکتے ہیں۔“ 66 ( الفضل 3 مئی 1961 ء )