سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 477 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 477

سيرة النبي عمال علوم صلى الله 477 جلد 4 ہے؟ وہ کہنے لگی آج اس نے قوم کے ندوہ میں اعلان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فرشتے میرے پاس آتے اور مجھ سے باتیں کرتے ہیں۔حضرت ابوبکر لیٹے ہوئے تھے یہ سنتے ہی آپ اٹھ کھڑے ہوئے اور آپ نے اپنی چادر سنبھالی۔ہمارے ملک میں جیسے ساڑھیاں ہوتی ہیں اس قسم کی چادر اہل عرب بھی اپنے اردگرد لپیٹ لیا کرتے تھے اور ایک حصہ کا تو نہ بند بنا لیتے اور دوسرا اوپر لپیٹ لیتے۔انہوں نے جلدی سے چادر درست کی ، جوتی پہن لی اور سیدھے رسول کریم عملے کے دروازہ پر پہنچے اور دستک دی۔رسول کریم کے باہر تشریف لائے تو آپ نے کہا اے میرے دوست ! کیا یہ سچ ہے کہ تو کہتا ہے فرشتے مجھ پر نازل ہوتے اور مجھ سے باتیں کرتے ہیں؟ رسول کریم نے اس خیال سے کہ آپ کو ٹھوکر نہ لگے چاہا کہ ابو بکر کو پہلے یہ مسئلہ سمجھا لوں اور پھر کوئی اور بات کروں چنانچہ آپ نے فرمایا ابوبکر !دیکھو بات یہ ہے۔حضرت ابوبکر نے کہا میں نے آپ سے ایک سوال کیا ہے آپ کا فرض صرف اتنا ہے کہ میرے سوال کا جواب دیں آپ مجھے کوئی اور بات نہ بتائیں۔میں نے آپ سے صرف یہ سوال کیا ہے کہ کیا یہ درست ہے کہ فرشتے آپ پر نازل ہوتے اور آپ سے کلام کرتے ہیں؟ صلى الله رسول کریم علیہ نے پھر چاہا کہ جواب دینے سے پہلے میں ان کو مسئلہ سمجھا لوں تا کہ ٹھوکر نہ لگے چنانچہ آپ نے فرمایا ابوبکر ! دیکھو بات یہ ہے۔حضرت ابوبکر نے کہا میں آپ کو خدا کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ آپ مجھے ہاں یا نہ میں جواب دے دیں۔اب رسول کریم ہے کے لئے سوائے اس کے کوئی چارہ نہ تھا کہ آپ جواب دے دیتے چنانچہ آپ نے فرمایا ابوبکر پھر بات تو یہی ہے اور اس کے ساتھ ہی آپ کے دل میں اس خیال سے افسردگی پیدا ہوئی کہ ابوبکر میرا پرانا دوست تھا یہ بھی میرے ہاتھ سے گیا۔مگر جب آپ نے کہا ابوبکر ! بات تو یہی ہے کہ فرشتے مجھ سے ہم کلام ہوتے ہیں تو حضرت ابوبکر نے کہا آپ گواہ رہیں کہ میں آپ پر ایمان لایا۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا ابوبکر ! تم مجھے بات تو پوری کر لینے دیتے۔حضرت ابوبکر نے کہا یا رسول اللہ ﷺ!