سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 478
سيرة النبي عليه 478 جلد 4 میں نے آپ کو پوری بات اس لئے نہیں کرنے دی کہ جب میں نے ہمیشہ آپ کو صادق اور راست باز پایا ہے تو اب میں اپنے ایمان کو دلیلوں سے کیوں خراب کروں 4۔اب یہ کیونکر ممکن تھا کہ ابو بکر اور وہ لوگ برابر ہو جا ئیں جو فتح مکہ کے وقت رسول کریم ﷺ پر ایمان لائے۔بے شک رسول کریم علیہ کا عفو وسیع تھا، بے شک آپ نے انہیں لَا تَشْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ کہہ دیا مگر لَا تَشْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ کہنا بالکل اور چیز ہے اور ابو بکر اور عمر اور عثمان اور علی اور ان دوسرے صحابہ کا مقام بالکل الله اور چیز ہے جو ابتدائی زمانہ میں رسول کریم ﷺ پر ایمان لائے۔صلى الله ابتدائی زمانہ میں ایمان لانے والوں کے مقام کا اندازہ تم اس سے لگا سکتے ہو کہ ایک دفعہ حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ کے درمیان کسی بات پر جھگڑا ہو گیا اس دوران میں حضرت عمرؓ نے حضرت ابو بکر پر ہاتھ ڈالا اور ان کا کپڑا پھٹ گیا۔حضرت عمرؓ کو خیال گزرا کہ اگر رسول کریم ﷺ کو اس واقعہ کی اطلاع پہنچی تو آپ ناراض ہوں گے۔ادھر کسی شخص نے انہیں خبر دی کہ حضرت ابو بکر کو اس نے رسول کریم علی کی خدمت میں جاتے دیکھا ہے حالانکہ حضرت ابو بکر اُس وقت گھر گئے تھے رسول کریم صلى الله کی خدمت میں نہیں گئے تھے۔یہ دوڑے دوڑے رسول کریم ﷺ کے پاس پہنچے اور کہنے لگے یا رسول اللہ علی ! آج مجھ سے ایک غلطی ہوگئی ہے میں ابو بکڑ سے صلى الله لڑ پڑا ہوں۔اتنے میں کسی شخص نے حضرت ابو بکر کو جا کر خبر دی کہ عمر رسول کریم می کے پاس پہنچ گئے ہیں اور خبر نہیں وہ بات کو کس رنگ میں بیان کریں۔حضرت ابوبکر بھی جلدی سے روانہ ہوئے اور رسول کریم علیہ کی مجلس میں پہنچے۔جب آپ دروازے صلى میں سے داخل ہوئے تو انہوں نے دیکھا کہ رسول کریم ﷺ کے چہرہ پر شدت غضب کے آثار ہیں اور آپ حضرت عمرؓ کو مخاطب کر کے کہہ رہے ہیں کہ اے لوگو ! کیا تم میرا اور اس شخص کا پیچھا نہیں چھوڑو گے جس نے مجھے اُس وقت قبول کیا جب ہر شخص کے دل میں کبھی پائی جاتی تھی۔اور حضرت عمرؓ نہایت رقت اور زاری کی حالت