سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 35
سيرة النبي علي 35 جلد 4 صل الله اس پر وعدہ خلافی کا الزام آتا مگر اللہ تعالیٰ سے زیادہ وعدوں کا پورا کرنے والا کون ہوسکتا ہے۔اس نے وقت پر اپنا وعدہ پورا کر دیا اور مرض کے پیدا ہوتے ہی طبیب بھی بھیج دیا۔اب یہ آپ لوگوں کا کام ہے کہ رسول کریم ﷺ کے تجویز کردہ اور اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے طبیب سے علاج کرائیں اور اس کی اتباع میں داخل ہو کر اسلام کی شوکت بڑھائیں یا ان لوگوں سے علاج کرائیں کہ جن کو رسول کریم ﷺ نے آسمان کے نیچے سب سے بدتر وجود قرار دیا ہے اور آپ لوگوں کے ایمان کا دشمن۔مگر یہ یا درکھیں کہ دوست سے بھاگ کر دشمن کی پناہ میں جانے والا کبھی فلاح نہیں پاتا اور اللہ تعالیٰ کے تجویز کردہ نسخہ کو رد کر کے بندوں کے ٹوٹکوں پر نگاہ رکھنے والا کبھی صحت کا منہ نہیں دیکھتا۔وقت نازک ہے اور مصیبت بہت بڑی۔پس اللہ تعالی کی نصیحت کی قدر کرو اور اس کا شکر یہ ادا کرتے ہوئے کہ اس نے عین مرض کے وقت طبیب روحانی بھیج دیا ہے۔اس کے مامور حضرت مرزا غلام احمد صاحب کے دعووں پر ایمان لاتے ہوئے احمدیت کو قبول کرو تا کہ یہ مصیبت کے دن ٹل جائیں اور اسلام ایک دفعہ پھر فتح و کامرانی کے دن دیکھے۔محمد رسول اللہ ﷺ کا باغ خشک ہو رہا ہے اگر وفادار ہو تو دیر نہ لگاؤ۔اٹھو اور اپنے خونوں سے اس باغ کے درخت کو سیراب کرو۔آسمانی باغ کنوؤں کے پانیوں سے نہیں بلکہ مومنوں کے خون سے سینچے جاتے ہیں۔اس دن کا انتظار نہ کرو کہ خدا تعالیٰ کے فرشتے تم کو غداروں کی فہرست میں شامل کر کے ابدی موت کے گھاٹ اتار دیں بلکہ آگے بڑھ کر خود اپنے لئے قربانی کی موت قبول کرو تا کہ ابدی زندگی پاؤ۔اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو۔وَاخِرُ دَعُونَا أَن الحَمدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِين “ خاکسار مرزا محمود احمد امام جماعت احمدیہ