سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 34
سيرة النبي عليه 34 جلد 4 عُلَمَاءُ أُمَّتِى كَانْبِيَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ 6 فرما کر علمائے اسلام کو وہ عزت بخشی ہے جو کبھی کسی نبی نے اپنی امت کو نہیں بخشی وہ بلا وجہ ہرگز یہ نہ کہہ سکتے تھے کہ اُس زمانہ میں مسلمانوں کے علماء آسمان کے نیچے بدترین مخلوق ہوں گے۔یقیناً آپ کو اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ کے علماء کی بہت ہی بری حالت دکھائی ہو گی تبھی آپ نے ایسا فرمایا ورنہ آپ کے رحم سے یہ امید کی جاتی ہے کہ تھوڑی بہت خرابی کا تو آپ ذکر بھی نہ کرتے اور اپنے حلم کی عادت اور پردہ پوشی کی خصلت سے کام لے کر معمولی سے نقص پر پردہ ہی ڈالتے تا علماء کی بدنامی نہ ہو لیکن جب آپ نے ایسا نہیں کیا بلکہ علماء کی حالت کو نہایت سخت الفاظ میں بیان فرمایا ہے تو صاف ظاہر ہے کہ آپ نے یہ کام امت کی ہمدردی سے مجبور ہو کر کیا ہے اور اس خوف سے کیا ہے تا مسلمان ایسی گھبراہٹ کے وقت میں ان سے اپنا علاج کرا کے اپنے آپ کو تباہ اور برباد نہ کر لیں اور رہی سہی روحانیت سے بھی انہیں ہاتھ نہ دھونے پڑیں۔پس اے بھائیو ! رسول کریم ﷺ ہی کی بات کو یا درکھو کہ آپ سے بڑھ کر آپ لوگوں کا کوئی خیر خواہ نہیں ہو سکتا۔اور ان دوست نما دشمنوں سے بچو جو تم کو بیمار دیکھ کر علاج کا مشورہ دینے کی بجائے الٹا غافل کرنا چاہتے ہیں اور آپ سے بھی دشمنی کرتے ہیں اور رسول کریم ﷺ کی بھی تکذیب کرتے ہیں۔مسلمانوں کی خراب حالت اظهر مِنَ الشَّمس ہے۔ان کی حکومتیں جاتی رہیں، ان کی تجارتیں برباد ہو گئیں، ان کے دلوں سے علم اٹھ گیا ہے، تقویٰ مٹ گیا ہے، ان کے قلوب سے خدا تعالیٰ کی یاد جاتی رہی ہے ، رسول کریم ﷺ کی اتباع کا جوش سرد ہو گیا ہے، ہمدردی عام کا خیال جا تا رہا ہے، قربانی اور ایثار کی روح مردہ ہو گئی ہے، غرض بقول أَصْدَقُ النَّاس صرف رسم اسلام باقی رہ گئی ہے روح اسلام مٹ چکی ہے۔الله ایسے وقت میں اللہ تعالیٰ اگر مسلمانوں کی خبر نہ لیتا اور حسب وعدہ فارسی الاصل انسان کو یعنی حضرت مرزا غلام احمد صاحب بانی سلسلہ احمدیہ کو مبعوث نہ فرما تا تو یقیناً