سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 33
سيرة النبي عمال 33 جلد 4 صداقت کو چھپانا چاہتے ہیں اور مسلمانوں کو تسلی دے رہے ہیں کہ تمہاری حالت بالکل ٹھیک ہے۔تم نمازیں پڑھتے ہو، روزے رکھتے ہو، حج کرتے ہو پس تمہاری حالت بالکل درست ہے اور اگر کوئی خرابی ہو تو تمہارے علماء تمہاری اصلاح کے لئے کافی ہیں حالانکہ اس سے زیادہ کوئی ظلم نہیں ہو سکتا کہ ایک بیمار کو اس کی بیماری سے ناواقف رکھا جائے یا یہ کہ علاج کا کام دشمن جان کے سپرد کیا جائے۔رسول کریم یہ تو فرماتے ہیں کہ مسیحیت کی ترقی کے وقت مسلمانوں کی حالت خراب ہو گی اور ان میں صرف ظاہری اسلام باقی رہ جائے گا لیکن مسلمانوں کے لیڈر کہلانے والے کہتے ہیں کہ نہیں نہیں اطمینان سے بیٹھے رہو تم میں کوئی نقص پیدا نہیں ہوا۔رسول کریم ﷺ تو فرماتے ہیں اس وقت مسلمانوں کے علماء دنیا میں سب سے بدترین مخلوق ہوں گے لیکن یہ لوگ کہتے ہیں کہ اول تو مسلمانوں میں کوئی نقص نہیں اور اگر ہے تو اس کا علاج یہ علماء کر لیں گے۔گویا اول تو رسول کریم ﷺ کی تشخیص مرض کو جھٹلایا جاتا ہے اور پھر فرض کر کے کہ مرض ہے یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ جسے رسول کریم ﷺ نے دشمن جان قرار دیا ہے اسی صلى الله سے علاج کراؤ اور جو تھوڑا بہت دین یا ایمان باقی ہے اسے بھی بربادکرالو۔اے بھائیو! خوب سمجھ لو کہ رسول کریم علیہ سے زیادہ کوئی آپ لوگوں کا خیر خواہ نہیں ہو سکتا۔وہ تو ہم سب کے روحانی باپ ہیں اور اس وجہ سے جسمانی ماں باپ سے بہت زیادہ خیر خواہ۔کون سا باپ ہے جو اپنے بچہ کی بد گوئی کرے گا اور جب وہ نہایت نیک ہے اسے بد قرار دے گا اور جب وہ تندرست ہے اسے بیمار قرار دے گا سوائے اس باپ کے جو کسی وجہ سے اپنے بچہ کا دشمن ہو گیا ہو یا جو فاتر العقل ہو۔مگر کیا آپ میں سے کوئی یہ سمجھ سکتا ہے کہ رسول کریم ﷺ جیسا باپ ایسی غلطی کا مرتکب ہو سکتا ہے۔یقیناً اگر مسلمانوں پر ایسا زمانہ نہیں آنے والا تھا تو آپ کبھی ایسے فقرے نہ کہتے کہ ان کے اندر صرف رسماً اسلام رہ جائے گا۔اسی طرح یہ بھی ظاہر ہے کہ رسول کریم ﷺ جو علماء کی عزت قائم کرنے میں سب سے بڑھ کر تھے اور جنہوں نے صلى الله