سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 446 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 446

سيرة النبي علي 446 جلد 4 لئے ہے جس نے دنیا میں امن قائم کر دیا اور انسان کی تڑپ اور فکر کو دُور کر دیا اور کہو وَسَلَمٌ عَلَى عِبَادِهِ الَّذِينَ اصْطَفى وہ بندے جو خدا تعالیٰ کے پسندیدہ ہو جائیں اور اپنے آپ کو اس کی راہ میں فدا کر دیں اُن کے لئے بھی امن پیدا ہو جائے گا اور وہ بھی با امن زندگی بسر کرنے لگ جائیں گے۔یہاں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بتایا کہ تمام لوگ جو آپ کی اتباع کرنے والے اور آپ کے مدرسہ میں تعلیم حاصل کرنے والے ہیں ان کے لئے کامل امن ہے اور وہ اپنی زندگی کے کسی شعبہ میں بھی بدامنی نہیں دیکھ سکتے۔پھر سوال پیدا ہوتا تھا کہ جب خدا سلام ہے تو اس کی طرف سے امن ساروں کے لئے آنا چاہئے نہ کہ بعض کے لئے کیونکہ اگر خالی اپنوں کے لئے امن ہو تو یہ کوئی کامل امن نہیں کہلا سکتا۔اس کا بھی اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں جواب دیتا ہے فرمایا وَقِيلِهِ يُرَبِّ إِنَّ هَؤُلَاءِ قَوْمُ لا يُؤْمِنُوْنَ فَاصْفَحُ عَنْهُمْ وَقُلْ سَلْمٌ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ 7 محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک ایسی تعلیم لے کر آئے ہیں جو ساروں کے لئے ہی امن کا موجب ہے اور ہر شخص کے لئے وہ رحمت کا خزانہ اپنے اندر پوشیدہ رکھتی ہے مگر افسوس کہ لوگ اس کو نہیں سمجھتے بلکہ وہ اس تعلیم کے خلاف لڑائیاں اور فساد کرتے ہیں جو ان کے لئے نوید اور خوشخبری ہے۔یہاں تک کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی یہ کہنا پڑا کہ خدایا ! میں اپنی قوم کی طرف امن کا پیغام لے کر آیا تھا مگر اِنَّ هَؤُلَاءِ قَوْمُ لَا يُؤْمِنُونَ یہ قوم جس کے لئے میں امن کا پیغام لایا تھا یہ تو مجھے بھی امن نہیں دے رہی۔امن کے معنی ایمان لانے کے بھی ہوتے ہیں اور امن کے معنی امن دینے کے بھی ہوتے ہیں۔قِيْلِهِ يُرَبِّ إِنَّ هَؤُلَاءِ قَوْمُ لَا يُؤْمِنُونَ میں اس امر کا ذکر ہے کہ ہمارا نبی ہم سے پکار پکار کر کہتا ہے کہ خدایا! باوجودیکہ میں اپنی قوم کے لئے امن کا پیغام لایا تھا وہ اس کی قدر کرنے کی بجائے میری مخالفت پر کمر بستہ ہوگئی ہے یہاں تک کہ ان لوگوں نے میرے امن کو