سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 444
سيرة النبي علي 444 جلد 4 اس کے بعد وہ پیغام ہے جو اس ہستی کی طرف سے آتا ہے کیونکہ جب ایک امن قائم رکھنے کی خواہشمند ہستی کا پتہ مل گیا تو انسان کے دل میں یہ معلوم کرنے کی بھی خواہش پیدا ہو جاتی ہے کہ آیا اس نے امن قائم کرنے کا کوئی سامان بھی کیا ہے یا نہیں۔کیونکہ اگر اس نے امن قائم کرنے کا کوئی سامان نہیں کیا تو یہ لازمی بات ہے کہ اگر ہم خود امن قائم کرنے کی کوشش کریں گے تو اس بات کا امکان ہوسکتا ہے کہ بجائے امن کے فساد پیدا کر دیں۔پس محض امن قائم کرنے کی خواہش انسان کو صحیح راستہ پر قائم نہیں رکھ سکتی جب تک ایک بالا ہستی کی ایسی ہدایات بھی معلوم نہ ہوں جو امن قائم کرنے میں ممد اور معاون ہوں کیونکہ اگر انسان کو اپنے بالا افسر کی خواہشات کا صحیح علم نہ ہو تو انسان با وجود اس آرزو کے کہ وہ اس کے احکام کی اطاعت کرے اسے پوری طرح خوش نہیں رکھ سکتا۔پس اگر ہمیں اپنے بالا افسر کی خواہش تو معلوم ہو لیکن اُس خواہش کو پورا کرنے کا طریق معلوم نہ ہو تب بھی ہما را امن قائم نہیں رہ سکتا کیونکہ ممکن ہے ہم کوئی اور طریق اختیار کریں اور اس کا منشا کوئی اور طریق اختیار کرنا ہو۔پس ہمارے امن کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ بالا ہستی ہمیں کوئی ایسا ذریعہ بھی بتائے جو امن قائم کرنے والا ہو۔سو اس غرض کے لئے جب ہم قرآن کریم کو دیکھتے ہیں اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ آیا اس نے کوئی ایسا ذریعہ بتایا ہے یا نہیں تو سورۃ بقرۃ میں ہمیں اس کا جواب نظر آتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِلنَّاسِ وَآمَنَّاه یعنی یہ جو آسمان پر سلام خدا کی خواہش ہے کہ دنیا میں امن قائم ہو اس کے لئے ضروری تھا کہ ہم ایک مرکز قائم کرتے جو دنیا کو امن دینے والا ہوتا سو ہم نے بیت اللہ کو مدرسہ بنایا ہے یہاں چاروں طرف سے لوگ جمع ہوں گے اور امن کا سبق سیکھیں گے۔پس ہمارے خدا نے صرف خواہش ہی نہیں کی ،صرف یہ نہیں کہا کہ تم امن قائم کرو ورنہ میں تم کو سزا دوں گا بلکہ اس دنیا میں اُس نے امن کا ایک مرکز بھی قائم کر دیا اور وہ خانہ کعبہ ہے۔فرماتا ہے یہاں لوگ