سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 440 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 440

سيرة النبي عمال 440 جلد 4 عورت کی مثال لے لو جس کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے اگر اسے ہر قسم کی دنیوی نعمتیں میسر ہوتیں ، عالیشان محل میں وہ رہتی ، ہزاروں خادم اُس کے پاس موجود ہوتے ، ہر قسم کے کھانے اس کے ارد گرد ہوتے ، عمدہ لباس اُس کے زیب تن ہوتا، دولت کی فراوانی ہوتی ، آرائش کا سامان اُس کے پاس بکثرت ہوتا لیکن فرض کرو اس کا بچہ گمشدہ ہوتا تو وہ کھویا ہوا بچہ اس کے امن کو بھی اپنے ساتھ ہی لے جاتا اور دولت کے انبار، آرائش کے سامان ، کھانے پینے کی اشیاء کی کثرت ، خدمت گاروں کی موجودگی اور عالیشان محل میں قیام اس کے دل کو ذرا بھی چین نہ دے سکتے۔سو ظا ہری امن اپنی ذات میں اُس وقت تک کوئی حیثیت نہیں رکھتا جب تک باطنی امن اس کے ساتھ نہ ہو۔ہمیشہ وہی امن ، امن کہلا سکتا ہے جو ظاہر و باطن دونوں لحاظ سے امن دینے والا ہو۔اس وقت دنیا میں ہم عام طور پر یہ دیکھتے ہیں کہ لوگ امن کے خواہشمند ہیں لیکن امن ان کو میسر نہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا میں اتنی مختلف الانواع مخلوق ہے کہ جب تک کسی ایک قاعدہ کے ماتحت امن کا حصول نہ ہو اُس وقت تک سب لوگ مطمئن نہیں ہو سکتے۔ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں انسانوں میں ہزاروں اختلافات پائے جاتے ہیں، ایک دوسرے کے مفاد مختلف ہوتے ہیں، ایک دوسرے کے جذبات مختلف ہوتے ہیں، ایک دوسرے کی خواہشات مختلف ہوتی ہیں اور ایک دوسرے کی ضرورتیں مختلف ہوتی ہیں ان متضاد خواہشوں اور متضادضرورتوں کے ہوتے ہوئے دنیا میں امن کس طرح ہو سکتا ہے؟ ایسے متضاد اور مخالف خیالات کی موجودگی میں تبھی امن قائم ہو سکتا ہے جب ساری دنیا ایک ایسی ہستی کی تابع ہو جو امن دینے کا ارادہ رکھتی ہو۔اگر یہ بات نہ ہو تو کبھی امن میسر نہیں آ سکتا۔ہم روزانہ دیکھتے ہیں کہ ایک گھر میں ماں باپ ذرا ادھر اُدھر ہوتے ہیں تو تھوڑی ہی دیر میں بچے لہولہان ہو جاتے ہیں۔کسی کے کلے پر زخم ہوتا ہے ، کسی کے بال نوچے ہوئے ہوتے ہیں، کسی کے کپڑے پھٹے ہوئے ہوتے ہیں، کسی کی آنکھ سوجی ہوئی ہوتی ہے مگر جب