سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 438 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 438

سيرة النبي علي 438 جلد 4 نظر نہیں آیا تھا دنیا عشق مجازی سے تسلی پاتی تھی مگر جب محبوب حقیقی کا چہرہ اُس نے دیکھ لیا تو مجازی محبوب اس کی نگاہ میں حقیر ہو گئے۔یہی وہ نکتہ ہے جس کو ایک بزرگ صحابی نے نہایت ہی لطیف پیرایہ میں بیان کیا ہے۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شعروں کا بہت شوق تھا۔ایک دفعہ انہوں نے تمام گورنروں کے نام چٹھی لکھی کہ عرب کے جس قدر مشہور شعراء ہیں اُن سے کہو کہ وہ اپنا تازہ کلام مجھے بھجوائیں۔ایک گورنر کو جب یہ چٹھی پہنچی تو اس نے لوگوں سے مشورہ لیا کہ یہاں کون کون سے بڑے شاعر ہیں۔ان لوگوں نے دو شاعروں کے نام بتائے جن میں ایک سبعہ معلقات کے شعراء میں سے تھے۔اس گورنر نے ان دونوں شاعروں کو لکھا کہ حضرت عمر نے آپ لوگوں کا تازہ کلام منگوایا ہے کچھ اشعار کہہ کر بھیج دو۔اس پر دوسرے شاعر نے ایک تازہ نظم بنا کر بھیج دی مگر یہ شاعر جن کا نام لبید تھا اور جو عرب کے بہترین شاعروں میں سے تھے اُن شاعروں میں سے کہ جب وہ مکہ میں آتے تو علماء و ادباء کا ہجوم اُن کے گرد ہو جاتا اور سب انہیں باپ کی سی حیثیت دیتے انہوں نے جواب میں لکھا کہ میرا قصیدہ تو یہ ہے الم ذلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ 2 - گورنر کو اُن کی اس حرکت پر سخت غصہ آیا اور اس نے پھر لکھا کہ میں نے حضرت عمرؓ کا آپ کو پیغام بھجوایا ہے یہ میرا پیغام نہیں، آپ ضرور اپنا تازہ کلام مجھے بھیجیں تا میں حضرت عمرؓ کو بھجوا دوں۔انہوں نے پھر لکھا که تازه کلام یہی ہے الم ذلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ۔اس پر گورنر نے اُن کو سزا دی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو لکھ دیا کہ ایک شاعر نے تو چند شعر بھجوائے ہیں جو میں آپ کی خدمت میں بھیج رہا ہوں مگر لبید نے آپ کے پیغام کے جواب میں قرآن کریم کی چند ابتدائی آیات لکھ کر بھیجوا دی تھیں جس پر میں نے