سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 432 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 432

سيرة النبي علي 432 جلد 4 وو رسول کریم ع کا خوف خدا حضرت مصلح موعود 23 ستمبر 1938 ء کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں:۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھو جب آپ کی وفات کا وقت قریب آیا تو ایک روز مجلس لگی ہوئی تھی اور آپ اپنی وفات کے متعلق ہی ارشاد فرما رہے تھے کہ آپ نے فرمایا دیکھو ہر انسان جو اس دنیا میں کسی کو دکھ دیتا ہے اس کی سزا خدا تعالیٰ کے حضور پائے گا اور میں نہیں چاہتا کہ میں اللہ تعالیٰ کے حضور شرمندہ ہوں اس لئے میری خواہش ہے کہ جسے مجھ سے کوئی تکلیف پہنچی ہو وہ اس کا بدلہ آج ہی مجھ سے لے لے۔اس بات کا صحابہ پر جو اثر ہو سکتا تھا وہ ظاہر ہے اور اس کا قیاس وہی کر سکتا ہے جسے کسی سے سچی محبت ہو۔یہ بات سن کر ان کو ایسا معلوم ہوا جیسا کہ کسی نے ان کے سینوں میں خنجر گھونپ دیا ہو اور وہ بے تاب ہو کر رونے لگے لیکن ایک صحابی نے کہا يَا رَسُولَ الله ! فلاں موقع پر آپ نے مجھے کہنی ماری تھی ، آپ جنگ کے لئے صفیں درست کر رہے تھے، راستہ تنگ تھا اور گزرتے ہوئے آپ کی کہنی مجھے لگی تھی۔آپ نے فرمایا تم مجھے کہنی مارلو۔اس صحابی نے کہا کہ يَا رَسُولَ اللہ ! میں اُس وقت ننگے بدن تھا اور آپ نے گرتا پہن رکھا ہے۔اس پر آپ نے اپنا گرتا اٹھا دیا۔اُس وقت صحابہ کی جو حالت ہوگی وہ ظاہر ہے۔ان میں سے ہر ایک یہ چاہتا ہوگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر اُدھر ہو تو اس شخص کو ٹکڑے کر دوں مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رعب ایسا تھا کہ کسی کو بولنے کی جرات نہ تھی۔جب آپ نے گرتا اوپر اٹھایا تو وہ صحابی آگے بڑھا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم پر اُسی جگہ بوسہ