سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 429
سيرة النبي عمال 429 جلد 4 صلى لاؤ۔حضرت ابو ہریرۃ کہتے ہیں میں نے دل میں کہا کہ میں تو یہ سمجھتا تھا کہ مجھ اکیلے کو یہ تمام دودھ مل جائے گا مگر اب تو اوروں کو بھی بلا لیا گیا ہے نہ معلوم میرے لئے دودھ بچے یا نہ بیچے۔خیر میں مسجد میں گیا تو وہاں چھ آدمی اور مل گئے۔میں نے کہا اب مصیبت آئی۔آگے تو یہ خیال تھا کہ اگر ایک آدمی ملا تو خیر آدھا دودھ وہ پی لے کا آدھا میں پی لوں گا مگر یہاں تو اکٹھے چھ مل گئے ہیں۔یہ اگر پینے لگے تو میرے لئے کچھ بھی نہیں بچے گا مگر چونکہ رسول کریم میہ کا حکم تھا اس لئے میں ان کو ساتھ لے کر گیا اور کہا يَا رَسُولَ اللہ ! یہ چھ بھی میری طرح بھو کے بیٹھے ہیں۔اس موقع پر رسول کریم ﷺ نے انہیں کیا عجیب سبق دیا۔آپ نے فرمایا ابو ہریرہ! یہ دودھ کا پیالہ لو اور پہلے ان میں سے ایک کو پلاؤ۔حضرت ابو ہریرۃا کہتے ہیں میں نے دل میں کہا بس اب میں مارا گیا میرے لئے بھلا کیا بچے گا۔چنانچہ پہلے ایک نے پینا شروع کیا اور پینتا چلا گیا۔میں نے سمجھا شاید یہ شرافت کر کے کچھ دودھ چھوڑ دے تو میرے پینے کے کام آ جائے مگر جب وہ پی چکا تو رسول کریم ﷺ نے وہ پیالہ دوسرے کو دے دیا، پھر تیسرے کو، پھر چوتھے ، پانچویں اور چھٹے کو اور میں کانپتا چلا جاؤں کہ نہ معلوم صلى الله میرے لئے بھی کچھ بچتا ہے یا نہیں۔آخر جب وہ سب پی چکے تو رسول کریم مے نے مجھے پیالہ دیا اور میں نے دیکھا کہ وہ اسی طرح لبالب بھرا ہوا ہے جس طرح پہلے تھا۔آخر میں نے دودھ پینا شروع کر دیا اور پیتا چلا گیا یہاں تک کہ میرا پیٹ بھر گیا اور میں نے کہا يَا رَسُولَ الله ! اب میں سیر ہو گیا۔آپ نے فرمایا نہیں اور پیو۔چنانچہ میں نے پھر پینا شروع کر دیا اور جب بہت پی چکا تو میں نے پھر کہا کہ يَا رَسُولَ الله ! اب تو پیٹ بھر گیا ہے۔آپ نے فرمایا نہیں اور پیو۔چنانچہ میں نے پھر پیا یہاں تک کہ مجھے یوں محسوس ہوا کہ میری انگلیوں کی پوروں میں سے بھی دودھ پھوٹ کر نکل رہا ہے۔آخر میں نے کہا یا رَسُولَ الله ! اب تو میرے پیٹ میں کوئی گنجائش نہیں رہی۔رسول کریم نے ہنس کر پیالہ مجھ سے لے لیا اور خود بقیہ دودھ پی گئے 2۔اس طرح