سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 430
سيرة النبي عمال 430 جلد 4 رسول کریم ﷺ نے انہیں یہ سبق دیا کہ گو تم نے زبان سے سوال نہیں کیا مگر چونکہ اپنی شکل سے تم نے دوسروں سے مانگا ہے اس لئے تمہیں سب کے بعد حصہ دیا جائے گا۔یہ واقعہ سنا کر حضرت ابو ہریرہ فرمانے لگے یہ میری حالت تھی۔مگر آج میری حالت کیا ہے؟ آج یہ حالت ہے کہ جس رومال میں میں نے تھوکا ہے یہ کسری شاہ ایران کا رومال ہے اور رومال بھی ایسا قیمتی ہے کہ کسری اسے ہر وقت اپنے ہاتھ میں نہیں رکھتا تھا بلکہ اپنے سالانہ جشن کے موقع پر یہ رومال لیتا تھا مگر آج وہ اس قدر قیمتی رومال میرے ہاتھ میں ہے اور میں کس بیدردی سے اس میں تھوک رہا ہوں۔یہی وجہ ہے کہ جب میں نے اس میں تھوکا تو مجھے اپنی گزشتہ حالت یاد آ گئی اور میں نے کہا بخ بخ ابو هريرة آج تو تیری بڑی شان ہے۔اب اگر ابو ہریرہ کو ان قربانیوں کے وقت جو انہوں نے اسلام کے لئے ابتدائی زمانہ میں کیں یہ معلوم ہوتا کہ ان قربانیوں کے نتیجہ میں وہ ایک دن کسری کے رومال میں تھوکیں گے تو کون کہہ سکتا ہے کہ وہ ان قربانیوں سے بھی بڑھ کر اسلام کے لئے قربانیاں کرنے کے لئے آمادہ نہ ہو جاتے۔اگر ابوسفیان کو پتہ ہوتا کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی غلامی کے نتیجہ میں اس کا لڑکا معاویہ ایک دن عرب کا بادشاہ بننے والا ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ بجائے مخالفت کرنے کے وہ صلى الله تلوار لے کر محمد رسول اللہ ﷺ کے لشکر کے آگے آگے چلتا۔مگر وہ کیوں لڑ رہا تھا ؟ صرف اسی لئے کہ اسے مستقبل کا علم نہیں تھا اور وہ نہیں جانتا تھا کہ کل کیا ہونے والا ہے۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ 3 اگر تم اپنے مستقبل سے آگاہ ہو جاؤ۔اگر ہم وہ پردہ اٹھا دیں جو اس وقت تمہاری آنکھوں پر پڑا ہوا ہے، اگر تمہیں نظر آنے لگے کہ تمہارے کالے کلوٹے بچے جن کی آنکھوں میں گید بھری ہوئی ہے اور ناک ان کے بہہ رہے ہیں کسی دن دنیا کے بادشاہ بننے والے ہیں تو تم قربانیاں کر کے اپنے آپ کو ہلاک کر لو۔مگر ہم تمہیں وہ بتاتے نہیں صرف اتنا بتا دیتے ہیں کہ ان قربانیوں کا نتیجہ تمہارے لئے بہت بہتر ہو گا اور اگر تمہیں اپنا مستقبل نظر