سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 427
سيرة النبي علي 427 جلد 4 سیرت نبوی کے دو پہلو حضرت مصلح موعود نے 31 جولائی 1938ء کو قادیان میں تحریک جدید کے مطالبات پر تقریر کرتے ہوئے حضرت ابو ہریرہ کا ایک واقعہ بیان فرمایا۔اس واقعہ صلى الله سے رسول کریم ع کی صحابہ سے شفقت اور ایثار کا بھی سبق ملتا ہے:۔عليسة حضرت ابو ہریرۃ نے ایک دفعہ کسریٰ شاہ ایران کا رومال اپنی جیب میں سے نکالا اور اس سے اپنی تھوک پونچھ لی۔پھر کہنے لگے بخ بخ ابو هريرة واہ واہ ابو ہریرہ !! کبھی تجھے جو تیاں پڑا کرتی تھیں اور آج تو کسریٰ کے رومال میں تھوک رہا ہے۔لوگوں نے پوچھا آپ نے یہ کیا بات کہی ہے؟ انہوں نے کہا مجھے رسول کریم علی کی باتیں سننے کا اس قدر اشتیاق تھا کہ میں مسجد سے اٹھ کر کبھی باہر نہ جاتا کہ ممکن ہے رسول کریم علی تشریف لے آئیں اور آپ میرے بعد کوئی ایسی بات کہہ جائیں جسے میں نہ سن سکوں اور چونکہ میں اسی شوق میں ہر وقت مسجد میں پڑا رہتا تھا اس لئے کئی کئی دن کے فاقے ہو جاتے اور شدت ضعف کی وجہ سے مجھ پر غشی طاری ہو جاتی۔لوگ یہ سمجھتے کہ مجھے مرگی پڑی ہوئی ہے اور چونکہ عرب میں یہ دستور تھا کہ وہ مرگی والے کو جوتیاں مارا کرتے تھے اس لئے جب میں بے ہوش ہو جاتا تو لوگ میرے سر پر جو تیاں مارنی شروع کر دیتے حالانکہ اُس وقت بھوک کی شدت کی وجہ سے مجھے غشی ہوتی تھی اور کمزوری کے مارے میری آواز بھی نہیں نکل سکتی تھی 1۔پھر انہوں نے واقعہ سنایا کہ ایک دفعہ میں بھوک سے اتنا تنگ ہوا کہ مجھ سے برداشت نہ ہو سکا اور میں اٹھ کر مسجد کے دروازہ پر آ کر کھڑا ہو گیا کہ شاید میری شکل