سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 30
سيرة النبي عمال 30 جلد 4 کہا چھوڑ دو میرے گھوڑے کی باگ کو اور گھوڑے کو ایڑ لگا کر دشمن کی طرف بڑھے 1۔گویا آپ نے دونوں نظارے دکھلا دیئے۔ایک جگہ کچھ بچے اور کہتے آپ کے پیچھے ڈالے گئے اور آپ واپس آگئے۔کیونکہ آپ نے سمجھا کہ آپ جو پیغام پہنچانا چاہتے تھے وہ پہنچا چکے۔مگر دوسری جگہ جب کہ چار ہزار تیر انداز سامنے تھے اور صرف بارہ صحابہ آپ کے پاس رہ گئے تھے آپ نڈر ہو کر میدان جنگ میں کھڑے رہے۔صحابہ جوشِ اخلاص میں آپ کے گھوڑے کی باگ پکڑ کر روکنا چاہتے مگر آپ فرماتے چھوڑ دو میں پیچھے نہیں ہٹوں گا۔وہی پیغام ہے، وہی پہنچانے والا ہے مگر ایک جگہ سے واپس آگئے اور دوسری جگہ کھڑے رہے۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ موقع اور محل کو دیکھ کر کام کرنا چاہئے۔ایک موقع ایسا بھی آسکتا ہے جب کہ واپس آنا منع ہو۔مثلاً سیالکوٹ میں جب میں نے ایک دفعہ لیکچر دیا اور مخالفوں نے روکنا چاہا تو اُس وقت میں نے سمجھا تھا میرا لیکچر بند کر دینا اور واپس چلے جانا سلسلہ کی ہتک ہے جسے کسی صورت میں بھی برداشت نہیں کیا جا سکتا۔پس میں نے اُس وقت یہی سمجھا کہ چاہے پتھر پڑیں ، زخمی ہوں ہم میدان سے نہیں ہٹیں گے۔لیکن ایسے مواقع بھی آسکتے ہیں جب کہ واپس چلے آنا مناسب ہو۔پس موقع اور محل کے مطابق کام کرو اور بزدلی نہ دکھاؤ۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دشمن کے دل میں بھی محبت پیدا ہو جاتی ہے۔مثلاً طائف سے ہی جب رسول کریم ﷺے واپس آرہے تھے تو ایک نہایت ہی اشد ترین دشمن نے جو ہمیشہ آپ کا مخالف رہا کرتا تھا جب آپ کی یہ حالت دیکھی تو وہ خود سامنے نہ جا سکا مگر اس نے اپنے غلام کو بلا کر کہا انگور توڑ کر انہیں کھلاؤ۔“ ( الفضل 19 اکتوبر 1933ء ) 1 مسلم كتاب الجهاد والسير باب غزوة حنين صفحه 789 حدیث نمبر 4612 مطبوعہ ریاض 2000ء الطبعة الثانية