سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 410
سيرة النبي علي 410 جلد 4 تمدن اسلامی کے متعلق رسول کریم علیہ کی تعلیم 28 دسمبر 1937ء کو جلسہ سالانہ قادیان کے موقع پر حضرت مصلح موعود کے خطاب المعروف انقلاب حقیقی میں تمدن اسلامی کے متعلق رسول کریم ﷺ کے درج ذیل ارشادات کا ذکر ملتا ہے آپ بیان فرماتے ہیں :۔(1) اخلاق حسنہ دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں (1) اِنَّ الْخُلُقَ وِعَاءُ الدِّينِ 1 کہ خُلق دین کا برتن ہے۔اب تم خود ہی سمجھ لو کبھی برتن کے بغیر بھی دودھ رہا ہے؟ یہ تو ہوسکتا ہے کہ برتن ہومگر دودھ نہ ہو لیکن یہ نہیں ہوسکتا کہ دودھ بغیر برتن کے باقی رہے۔پس اخلاق حسنہ دین کا برتن ہیں۔اگر کسی کے پاس یہ برتن نہیں اور وہ کہتا ہے کہ میرے پاس ایمان کا دودھ ہے تو وہ جھوٹ بولتا ہے۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں (2) إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأتَمِّمَ مَكَارِمَ الْاخْلَاقِ 2 کہ میں اس لئے بھیجا گیا ہوں تا اخلاق فاضلہ کو کامل کر کے قائم کروں۔(2) معاملات پھر معاملات کے متعلق فرماتے ہیں أَشْرَفُ الْإِيمَانِ أَنْ يَأْمَنَكَ النَّاسُ وَاشْرَقْ الْإِسْلَامِ أَنْ يُسْلَمَ النَّاسُ مِنْ لِّسَانِكَ وَيَدِکَ 3 کہ اعلیٰ درجہ کا ایمان یہ ہے کہ لوگ تیرے ہاتھ سے امن میں رہیں اور کسی کو تجھ سے دکھ نہ پہنچے اور اعلیٰ درجہ کا اسلام یہ ہے کہ لوگ تجھ سے محفوظ رہیں یعنی تو نہ زبان سے ان سے لڑے اور نہ ہاتھ سے انہیں کوئی تکلیف پہنچائے۔۔