سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 407 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 407

سيرة النبي علي 407 جلد 4 نے ہی یہ قرآن اتارا ہے اور ہم ہی اس کے لفظوں اور اس کی روح دونوں کے محافظ ہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سپر داس کی حفاظت کا کام نہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور عیسوی کمالات پھر آپ میں عیسوی کمالات بھی پائے جاتے تھے۔عیسوی کمالات کے ذکر میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے وَأَيَّدْنُهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ 14 کہ ہم نے اس کی روح القدس سے تائید فرمائی۔اس کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فرمایا قُلْ نَزَّلَهُ رُوحُ الْقُدُسِ مِنْ رَّبَّكَ بِالْحَقِّ لِيُثَبِّتَ الَّذِينَ آمَنُوْا وَهُدًى وَبُشْرَى لِلْمُسْلِمِينَ 15 کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! تو لوگوں سے کہہ دے کہ خدا نے یہ کلام روح القدس کے ذریعہ سے نازل کیا ہے سچائی اور حق کے ساتھ تا مومنوں کو یہ مضبوط کرے اور اس میں ایمان لانے والوں کے لئے ہدایت اور بشارتیں ہیں۔پھر حضرت عیسی علیہ السلام نے یہ جو کہا تھا کہ شریعت لعنت ہے جس سے آپ کی غرض یہ تھی کہ محض ظاہر کے پیچھے پڑ جانا اور باطنی اصلاح کو ترک کر دینا ایک لعنت ہے اس کے لحاظ سے قرآن کریم نے بھی فرمایا فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ الَّذِينَ هُمْ يُرَاءُونَ 16 کہ لعنت ہے ان پر اور عذاب ہے ان نماز پڑھنے والوں کے لئے جو نماز کی روح سے غافل ہیں اور نماز محض لوگوں کے دکھاوے کے لئے پڑھتے ہیں۔یہ وہی ویل کا لفظ ہے جو حضرت عیسی علیہ السلام نے اپنے زمانہ میں استعمال کرتے ہوئے کہا کہ محض ظاہر شریعت کی اتباع لعنت ہے۔آپ کا یہ مطلب نہیں تھا کہ نماز لعنت ہے یا روزہ لعنت ہے یا صدقہ لعنت ہے یا غریبوں اور مساکین کی خبر گیری کرنا لعنت ہے بلکہ آپ کا یہ مطلب تھا کہ ظاہر میں نیکی کے اعمال کرنا اور باطن میں ان اعمال کا کوئی اثر نہ ہونا ایک لعنت ہے۔مگر عیسائیوں نے غلطی سے اس کا یہ مطلب سمجھ لیا کہ نماز لعنت ہے، روزہ لعنت ہے۔اسی طرح فرمایا