سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 400 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 400

سيرة النبي علي 400 جلد 4 رسول کریم اے کے اموال غنیمت کی تقسیم پر اعتراض صلی 27 دسمبر 1937ء کو جلسہ سالانہ قادیان سے خطاب کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود نے فرمایا:۔رُوِيَ أَنَّ رَجُلاً اَسْوَدَ مُضْطَرِبَ الْخَلْقِ غَائِرَ الْعَيْنَيْنِ نَاتِيَ الْجَبْهَةِ مُخْدَجَ الْيَدِ شَدِيدَ بَيَاضِ الشَّوُبِ يُقَالُ لَهُ عَمْرُو ذُوالْخُوَيْصِرَةِ أو أَوِ الْخُنَيْصِرَةِ وَقَفَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُم بَعْضَ الْغَنَائِمِ فَقَالَ لَقَدْرَأَيْتُ قِسْمَةً مَّا اُرِيدَ بِهَا وَجُهُ اللهِ 1 یعنی بیان کیا جاتا ہے کہ ایک شخص جو کالے رنگ کا تھا، جس کے جسم کی بناوٹ میں بعض نقص تھے ، جس کی آنکھوں میں گڑھے پڑے ہوئے تھے ، جس کے ماتھے کی ہڈی باہر نکلی ہوئی تھی اور جس کے ایک ہاتھ میں بھی نقص تھا اور جو عام طور پر سفید لباس پہننے کا عادی تھا، جسے عمرو ذو الخُوَيْصِره يا حُنَيْصِرَہ کہا کرتے تھے رسول کریم ﷺ کی پیٹھ کے پیچھے آ کر کھڑا ہو گیا۔آپ اُس وقت غنیمت کے اموال مسلمانوں میں تقسیم فرما رہے تھے۔جب آپ مال تقسیم کر چکے تو اُس نے گردن اٹھائی اور کہا آج میں نے مال کی وہ تقسیم دیکھی ہے جس میں خدا تعالیٰ کی خوشنودی کو ہرگز مد نظر نہیں رکھا گیا۔فَغَضِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَوَرَّدَ خَدَّاهُ وَقَال لَهُ وَيْحَكَ فَمَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَمْ أَعْدِلُ 2 یہ سن کر رسول کریم ﷺ کے چہرہ پر ناراضگی کے آثار ظاہر ہوئے یہاں تک کہ آپ کے کلے سرخ ہو گئے اور آپ نے فرمایا تیراستیا ناس ہو اگر میں عدل نہیں کروں گا تو پھر دنیا میں اور کون عدل کرے گا۔ثُمَّ قَالَ أَيَأْمَنُنِي اللهُ