سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 401 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 401

سيرة النبي علي 401 جلد 4 عَزَّوَجَلَّ عَلَى اَهْلِ الْأَرْضِ وَلَا تَأْمَنُونَنِى وَقَامَ أَبُو بَكْرِو عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِلى الرَّجُلِ لِيَقْتُلَاهُ فَوَجَدَاهُ يُصَلِّى فَلَمْ يَجُسُرَا عَلَى قَتْلِهِ ثُمَّ قَامَ عَلِيٌّ كَرَّمَ اللهُ وَجْهَهُ فَلَمْ يَجِدُهُ فَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلوةُ وَالسَّلَامُ لَوْ قُتِلَ هَذَا مَا اخْتَلَفَ اثْنَان فِى دِينِ اللهِ إِنَّهُ سَيَكُونُ مِنْ ضِتُضِي هَذَا قَوْمٌ يَمُرُقُونَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهُمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ 3 پھر آپ نے فرمایا خدا نے تو ساری دنیا کی حفاظت و امانت کا کام میرے سپر د کر دیا ہے مگر تم مجھے اپنے تھوڑے سے مال میں بھی امین نہیں سمجھتے۔یہ سن کر حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ کھڑے ہو گئے اور انہوں نے اس شخص کی تلاش کی تاکہ اسے قتل کر دیں مگر انہوں نے دیکھا کہ وہ بڑی لمبی نماز پڑھ رہا ہے۔یہ دیکھ کر ان کے دل میں خوف پیدا ہوا اور اُس کے قتل کی انہوں نے جرأت نہ کی۔پھر حضرت علی کھڑے ہو گئے اور انہوں نے کہا کہ میں اسے ضرور قتل کروں گا چنانچہ انہوں نے اسے ڈھونڈا مگر وہ نہ ملا۔رسول کریم ﷺ نے یہ دیکھ کر فرمایا کہ اگر یہ شخص آج مارا جاتا تو اسلام میں آئندہ کبھی فتنہ پیدا نہ ہوتا اور خدا تعالیٰ کے دین کے بارے میں کبھی اختلاف پیدا نہ ہوتا۔مگر اب اس قسم کے لوگ جو اس شخص کے طریق کی اتباع کرنے والے ہوں گے امت محمدیہ میں پیدا ہوں گے۔وہ بظاہر بڑے دیندار ہوں گے، بڑی بڑی لمبی نمازیں پڑھنے والے ہوں گے مگر وہ دین۔اسی طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر کمان سے نکل جاتا ہے۔اگر میرے زمانہ میں یہ شخص ہلاک ہو جاتا تو آئندہ اس سے نفاق کا سلسلہ نہ چلتا مگر اب معلوم ہوتا ہے کہ کسی زمانہ میں اسی قسم کے لوگوں کی وجہ سے اسلام میں فتنہ پیدا ہونے والا ہے۔“ (الفضل 20 اگست 1964 ء ) 1 تا 3: بخاری کتاب المناقب باب علامات النبوة فى الاسلام صفحہ 605 حدیث نمبر 3610 مطبوعہ ریاض اپریل 1999 ء الطبعة الثانية ( مفهوماً)