سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 398
سيرة النبي عمال 398 جلد 4 مگر اسلامی احکام پر ہمیشہ بنسی اور تمسخر اڑاتا رہتا۔لوگ اسے بہت سمجھاتے مگر اس پر کوئی اثر نہ ہوتا تھا۔کئی سال کے بعد ایک دفعہ لوگوں نے اسے دیکھا کہ وہ حج کر رہا ہے۔یہ دیکھ کر لوگ اس کے پاس گئے اور کہنے لگے کہ تو تو حج پر ہنسی کرتا اور مخول اڑایا کرتا تھا مگر آج تو خود حج کرنے کے لئے آگیا یہ تغیر تیرے اندر کس طرح پیدا ہو گیا ؟ وہ کہنے لگا بے شک آپ لوگ مجھے سمجھایا کرتے تھے مگر ہدایت کا کوئی خاص وقت ہوتا ہے۔ایک دن کا ذکر ہے میں گھر میں بیٹھا ہوا تھا کہ گلی میں سے ایک شخص گزرا جو نہایت ہی درد ناک لہجہ میں یہ آیت پڑھتا جا رہا تھا کہ اَلَمُ يَأْنِ لِلَّذِينَ امَنُوا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللهِ 2 کہ کیا مومنوں کے لئے ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ تعالیٰ کے ڈر سے بھر جائیں۔معلوم نہیں اُس کے دل کی اس وقت کیا کیفیت تھی اور اس کے اندر کس قدر سوز اور درد بھرا ہوا تھا کہ میں یہ آیت سنتے ہی تڑپ اٹھا اور میں اپنے گناہوں سے تو بہ کر کے حج کے لئے چل پڑا۔تو صداقت اور یقین سے جو تبلیغ کی جاتی ہے اس میں اور دوسری باتوں میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے اور یہی وہ باتیں ہوتی ہیں جو دوسرے کے قلب کو بالکل صاف کر دیتی ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ ایک جنگ سے واپس تشریف لائے تو ایک دشمن جس کے دو رشتہ دار مسلمانوں کے ہاتھوں لڑائی میں مارے گئے تھے اس نے اپنی تلوار لی اور رسول کریم ﷺ کے تعاقب میں چل پڑا۔ایک جنگل میں جب اسلامی لشکر پہنچا تو تمام لوگ آرام کرنے کے لئے ادھر اُدھر منتشر ہو گئے۔صحابہ گو رسول کریم ﷺ کا ہمیشہ پہرہ رکھتے تھے مگر اُس وقت انہوں نے خیال کیا کہ یہاں جنگل میں کون دشمن آنے لگا ہے اور سب اِدھر اُدھر درختوں کے نیچے سو گئے۔رسول کریم ﷺ نے بھی اپنی تلوار ایک درخت کی شاخ میں لٹکا دی اور آرام کرنے کے لئے اُس درخت کے نیچے سو گئے۔وہ شخص جو تعاقب میں تھا اسی موقع کا منتظر تھا۔وہ جھٹ ایک جھاڑی کے پیچھے سے نکلا اور رسول کریم ﷺ کی تلوار اُس نے اٹھالی۔الله