سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 391
سيرة النبي علي 391 جلد 4 اور اسی سے اللہ تعالیٰ نے اسے اتنا شدید درد پیدا کر دیا کہ وہ میدانِ جنگ سے بھاگ گیا اور بعد میں مر گیا 2۔گویا اسے بھی آپ نے قتل نہیں کیا بلکہ صرف زخمی کیا اور یہ اتنی عظیم الشان بات ہے کہ دنیا کی کسی تاریخ میں اس کی مثال نہیں مل سکتی کہ کوئی جرنیل اور کمانڈر اس قدر معرکوں میں شامل ہوا ہو اور اس کے ہاتھ سے صرف ایک ہی شخص مارا گیا ہو۔تو صحابہ عام طور پر اور آنحضرت مہ خاص طور پر لڑائی کو نا پسند کرتے تھے مگر باوجود اس کے ان کو لڑائیاں کرنی پڑتی تھیں۔اس لئے کہ دشمن ان کو مجبور کر دیتے تھے۔الأمَاشَاءَ الله بعض اس کے برعکس بھی ہوں گے جو لڑائی کو پسند کرتے ہوں گے اور تیز طبیعت بھی ہوں گے مگر مستثنیات ہمیشہ قانون کو ثابت کرتی ہیں رد نہیں کرتیں۔تو وہ اخلاق جو طبیعت کے خلاف ظاہر ہوتے ہیں وہی نیکی کے کمال پر دلالت کرتے ہیں۔طبیعت کے میلان کے مطابق جو نیکی ہو وہ کامل نیکی نہیں کہلا سکتی۔مثلاً حضرت مسیح ناصری علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر کوئی تمہارے ایک گال پر تھپڑ مارے تو دوسرا بھی آگے کر دو 3۔اب اگر ان کا سارا کریکٹر اسی نقطہ کے گرد گھومتا ہے اور یہی بات ان کے ہر عمل میں نظر آتی ہے تو یہ کوئی اعلیٰ خوبی نہیں۔اس کے یہ معنے ہیں کہ ان کی تمام نیکیوں میں ان کے طبعی میلان کا دخل ہے۔نیکی دراصل اسی کی ہوتی ہے جس کی زندگی میں ہر قسم کی نیکیاں پائی جائیں۔جیسے ہمارے رسول کریم ﷺ کی ذات ہے۔عفو میں آپ نے ایسا نمونہ دکھایا کہ اس سے بہتر عفونہیں ہوسکتا۔لڑائی میں اس قدر دلیر تھے کہ آپ سے بڑھ کر کوئی دلیر نظر نہیں آتا۔پالیسی میں اس قدر ذہین تھے کہ آپ سے بہتر تد بیر کرنے والا اور سپاہیوں کو لڑانے والا کوئی دوسرا نہیں ملتا۔جب آپ تقریر کرتے تو ایسی کہ بڑے بڑے مقررین آپ کے سامنے بیچ نظر آتے۔ایک دفعہ آپ تقریر کرنے کے لئے صبح کھڑے ہوئے تو شام تک تقریر کرتے رہے صرف نماز کے لئے بند کرتے اور نماز پڑھ کر پھر شروع فرما دیتے۔مگر جب مختصر بات فرماتے تو ایسی کہ اس کی تفسیر میں کئی کتابیں لکھی جاسکیں۔گویا ایک طرف آپ کے لیکچر میں اتنی