سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 385 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 385

سيرة النبي م 385 جلد 4 کے سؤروں کے گلے بغیر ان کے مالکوں کو کوئی قیمت دینے کے تباہ کر دیا کرتے تھے۔یہ سب باتیں مسیحی کتب میں لکھی ہیں۔پھر ہندوؤں کو لے لو۔وہ حضرت کرشن اور حضرت رام چندر کو اپنا اوتار مانتے ہیں۔مگر رام چندر جی کا سیتا سے جو سلوک بیان کرتے ہیں وہ اگر ایک طرف رکھ لیا جائے اور دوسری طرف ان کی بزرگی اور نیکی دیکھی جائے تو یہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ انہوں نے اتنا بڑا ظلم کیا ہو۔مگر وہ حضرت رام چندر کی طرف بے دریغ یہ ظلم منسوب کرتے جاتے ہیں۔پھر حضرت کرشن کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ مکھن چرا چرا کر لے جایا کرتے تھے حالانکہ وہ خدا تعالیٰ کے نبی صلى الله تھے۔غرض تمام انبیاء پر بیسیوں الزامات لگائے جاتے تھے۔یہ صرف محمد یہ کی ہی ذات ہے جس نے تمام انبیاء سے ان اعتراضات کو دور کیا اور بتلایا کہ یہ لوگ نیک، پاک اور راستباز تھے۔ان پر الزام نہیں لگانا چاہئے۔پس رسول کریم ﷺ نے نہ صرف موجودہ اور آئندہ نسلوں پر احسان کیا بلکہ پہلے لوگوں پر بھی احسان کیا جو وفات پاچکے تھے اور ان کی قوموں پر بھی احسان کیا۔جب ایک یہودی کو بتادیا جائے کہ تمہارے بزرگ تمام نقائص سے پاک تھے تو اس کی گزشتہ تاریخ کتنی صاف ہو جاتی ہے اور وہ کیسی خوشی کے ساتھ ان بزرگوں کے نمونہ پر چلنے کی کوشش کرے گا۔یہی حال عیسائیوں کا ہے اور یہی حال دوسری قوموں کا ہے۔پس رسول کریم ﷺ نے نہ صرف اپنی قوم کی ترقی کے راستے کھولے بلکہ دوسری قوموں کی روایات کو بھی صاف کیا اور ان کے سامنے بھی ان کے بزرگوں کے اعلیٰ نمونے پیش کئے جن کو اپنے سامنے رکھتے ہوئے وہ عظیم الشان ترقی کر سکتے ہیں۔پھر آپ نے ملائکہ پر بھی احسان کیا۔طرح طرح کے الزام تھے جو ان پر لگائے جاتے تھے۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا يَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُونَو کہ ملائکہ گنہگار نہیں ان کے اندر خدا تعالیٰ نے انکار کا مادہ ہی نہیں رکھا۔انہیں جو بھی حکم ہے اس کی وہ اطاعت کرتے ہیں۔پس ان پر کسی قسم کا الزام لگانا اور یہ کہنا کہ انہوں نے