سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 384 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 384

سيرة النبي علي 384 جلد 4 کے لئے تمہارے منہ سے کوئی گالی نکل جاتی ہے تو تمہارا فرض ہے کہ اسے فوراً آزاد کر دو۔غرض مزدور اور آقا کے لحاظ سے بھی آپ نے صفت رب العلمین کا مظہر بن کر دنیا کو دکھا دیا۔آپ نے ایک طرف مزدور کو کہا کہ اے مزدور تو حلال کما اور محنت سے کام کر۔اور دوسری طرف آقا سے کہا کہ اے محنت لینے والے! تو حد سے زیادہ اس سے کام نہ لے اور اس کا پسینہ سُوکھنے سے پہلے اس کی مزدوری اسے دے۔اسی طرح تجارتوں کے متعلق اور لین دین کے معاملات کے متعلق بھی رسول کریم علیہ نے احکام دیئے ہیں اور زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس پر رسول کریم ﷺ کا کوئی احسان نہ ہو۔الله کوئی کہہ سکتا ہے کہ موجودہ لوگوں پر تو رسول کریم ﷺ نے یہ احسانات کئے آپ کے پہلوں پر کیا احسان ہیں؟ سوایسے لوگوں کو میں بتانا چاہتا ہوں کہ آپ کے احسانات نہ صرف موجودہ نسل اور آئندہ آنے والی نسلوں پر ہیں بلکہ ان لوگوں پر بھی جو آپ سے پہلے گزر چکے۔آپ جس زمانہ میں مبعوث ہوئے ہیں تمام انبیاء پر مختلف قسم کے الزامات لگائے جاتے تھے۔تم مجھے ایک ہی نبی ایسا بتا دو جس پر کوئی الزام نہ لگایا گیا ہو۔ہر نبی پر الزام لگا اور انہی قوموں نے ان پر الزام لگایا جو ان انبیاء کو ماننے والی تھیں۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر بھی الزام لگا، حضرت داؤد علیہ السلام پر بھی الزام لگا، حضرت سلیمان علیہ السلام پر بھی الزام لگا اور عیسائیوں نے تو حضرت عیسی علیہ السلام کو مستی کرے کرتے ہوئے کہہ دیا کہ سب نبی چور اور بٹ مار تھے۔مگر حضرت عیسی علیہ السلام کی نیکی بھی ان کی نگاہ میں کیا تھی؟ انہوں نے منہ سے تو کہہ دیا کہ حضرت عیسی علیہ السلام بے گناہ تھے مگر تفصیلات میں وہ ان پر الزام لگانے سے بھی باز نہیں آئے۔چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ وہ کسی کا گدھا بے پوچھے لے گئے اور اس پر سواری کرتے پھرے۔لوگوں کو گالیاں دیتے تھے اور انہیں حرام کار اور بدکار کہتے تھے۔وہ لوگوں کے گناہ اٹھا کر صلیب پر لٹک گئے اور اس طرح نَعُوذُ باللهِ مِنْ ذَلِكَ لعنتی بنے اور تین دن دوزخ میں رہے۔وہ لوگوں