سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 383
سيرة النبي عليه الله 383 جلد 4 ان میں سے کسی بچے کو نہ مارنا، دیکھنا ! ان کے کسی پنڈت، پادری یا راہب کو قتل نہیں کرنا ، دیکھنا ! باغات نہ جلانا ، معبد نہ گرانا ، پھل دار درخت نہ کاٹنا۔دیکھنا ! جھوٹ اور فریب سے کام نہ لینا، دیکھنا! کسی ایسے شخص کو قتل نہیں کرنا جس نے تمہارے سامنے اپنے ہتھیار ڈال دیئے ہوں۔دیکھنا ! زخمی کو نہ مارنا، دیکھنا! کسی کو آگ سے عذاب نہ دینا ، دیکھنا ! کفار کا مثلہ نہ کرنا اور ان کے ہاتھ پاؤں نہ کاٹنا۔یہ سب احکام جو رسول کریم علیہ نے دیئے یہ مسلمانوں کے لئے تو نہیں تھے ، یہ کفار کے لئے تھے۔آخر مسلمانوں نے مسلمانوں کے ناک، کان اور ہاتھ نہیں کاٹنے تھے انہوں نے مسلمانوں کو پکڑ پکڑ کر آگ میں نہیں جلانا تھا۔وہ اگر مثلہ کر سکتے تھے یا آگ سے عذاب دے سکتے تھے تو کافروں کو۔پس یہ احکام مسلمانوں کی خیر خواہی کے لئے نہیں تھے بلکہ کفار کی خیر خواہی کے لئے تھے اور ان کے آرام اور بچاؤ کے لئے یہ سب سامان تھے۔گو یا تمثیلی زبان میں اگر ہم ان واقعات کو بیان کریں تو اس کا نقشہ یوں کھینچا جا سکتا ہے کہ مسلمان ایک لمبے عرصہ تک کفار کے مظالم برداشت کرنے کے بعد جب تلواریں سونت کر کفار پر حملہ آور ہوئے تو وہی محمد ﷺ جو مسلمانوں کو کفار سے لڑا رہے تھے ، کیا دکھائی دیتا ہے کہ دشمنوں کے آگے بھی کھڑے ہیں اور مسلمانوں سے کہہ رہے ہیں کہ ان پر یہ ختی نہ الله کرو، وہ سختی نہ کرو۔گویا محمد یہ صرف مسلمانوں کے لشکر کی ہی کمان نہیں کر رہے تھے بلکہ آپ کفار کے لشکر کی بھی کمان کر رہے تھے اور اُسے بھی مسلمانوں کے حملہ سے بچارہے تھے۔پس لڑائیوں میں بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صفت رب العلمین کا مظہر ہونے کا ثبوت نظر آ رہا ہے۔پھر غلاموں پر بھی آپ نے احسان کیا اور فرمایا جو شخص کسی غلام کو مارتا ہے وہ گناہ کا ارتکاب کرتا ہے اور اس کا فدیہ یہ ہے کہ وہ اسے آزاد کر دے۔آپ نے فرمایا اپنے غلام سے وہ کام نہ لو جو وہ کر نہیں سکتا اور اگر زیادہ کام ہو تو خو د ساتھ لگ کر کام کراؤ۔اور اگر تم اس کے لئے تیار نہیں تو تمہارا حق نہیں کہ اس سے کام لو۔اسی طرح اگر غلام صلى الله