سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 381
سيرة النبي عمال 381 جلد 4 دائرہ شفقت میں دوسرے حیوانات بھی آگئے اور آپ نے ان کی بہتری کے لئے اپنی امت کو کئی احکام دیئے ہیں۔مثلاً آپ نے فرمایا کہ آزاد جانور کو باندھ کر مت رکھو اور اگر باندھ کر رکھتے ہو تو ان کے کھانے پینے کا بندو بست کرو۔اس حکم کے ماتحت ہر شخص جو کسی جانور کو اپنے گھر میں باندھ کر رکھتا ہے وہ اس بات پر مجبور ہے کہ اسے کھانے پینے کے لئے دے اور اگر نہیں دے گا تو رسول کریم ﷺ نے فرمایا وہ دوزخ میں جائے گا 4۔پھر جانورں پر آپ نے اس قدر رحم کیا کہ فرمایا کسی جانور کو کسی دوسرے جانور کے سامنے ذبح مت کرو تا اسے تکلیف نہ ہو۔کسی جانور کو کند چھری سے ذبح نہ کرو 5۔اسی طرح جانور کو باندھ کر نشانہ بنانے سے منع کیا 6۔جانور پر طاقت سے زیادہ بوجھ لادنے سے روکا۔اسی طرح منہ پر داغ دینے کی ممانعت کی اور فرمایا اگر داغ لگانا ہی ہو تو پیٹھ پر لگا و 2۔غرض جو فرائض اللہ تعالیٰ کی طرف سے جانوروں کے لئے مقرر ہیں ان کے سوا باقی ہر قسم کی تکلیف سے آپ نے انہیں محفوظ کر دیا۔اور پھر جو زیادہ سے زیادہ رحم جانوروں پر کیا جا سکتا تھا وہ بھی آپ نے کیا اور فرمایا جو جانور پالتو نہیں دانے وغیرہ چگتے رہتے ہیں اُن کو دانے وغیرہ ڈال دینا بھی ثواب کا موجب ہے۔چنانچہ آپ نے فرمایا ایک شخص تھا جو جانوروں کو دانے ڈالا کرتا تھا۔اللہ تعالیٰ کو اس کی یہ نیکی ایسی پسند آئی کہ اس نے اسی نیکی کے عوض اسے اسلام میں داخل ہونے کی توفیق عطا فرمائی۔غرض آپ کے احسانات سے حیوانات بھی باہر نہیں اور انسان باہر نہیں۔انسانوں میں سے مرد اور عورت کو لے لو۔پہلی قوموں نے مردوں کے متعلق بے شک قوانین تجویز کئے تھے مگر عورتوں کے حقوق کا انہوں نے کہیں ذکر نہیں کیا تھا۔رسول کریم صلى الله ے وہ پہلے انسان ہیں جنہوں نے یہ تعلیم دی کہ جیسے مردوں کے حقوق عورتوں کے ذمہ ہیں اسی طرح عورتوں کے حقوق مردوں کے ذمہ ہیں۔وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِى عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ 2 جس طرح عورتوں پر مردوں کے حقوق ہیں، اسی طرح عورتوں 8