سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 25 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 25

سيرة النبي علي 25 جلد 4 کہا کرتے تھے۔جعفر نے کمان ہاتھ میں لی لیکن وہ بھی مارے گئے۔اور پھر عبداللہ کمانڈر ہوئے لیکن وہ بھی کام آئے۔اس پر لشکر میں بہت گھبراہٹ پیدا ہوئی۔بعض مسلمان اپنے مقاموں سے پیچھے ہٹنا شروع ہوئے۔اُس وقت حضرت خالد بن ولیڈ نے آگے بڑھ کر اسلام کا جھنڈا تھام لیا اور کہا مسلمانو! یہ بھاگنے کا وقت نہیں بلکہ دلیری دکھانے کا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی ایسی نصرت کی کہ باوجود یکہ دشمن کی فوج بہت زیادہ تھی وہ مرعوب ہو گیا۔رات ہو گئی اور حضرت خالد نے مسلمانوں کو اندھیرے میں پیچھے ہٹا لیا۔اور اس طرح مسلمان تباہی سے بچ گئے۔قبل اس کے کہ کوئی انسان آپ تک یہ خبر پہنچا تا رسول کریم ﷺ کو بذریعہ وحی اس کی اطلاع ہو گئی۔آپ منبر پر تشریف لائے ، مسلمانوں کو جمع کیا اور فرمایا مجھے اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ زید مارے گئے اور پھر جعفر اور عبد اللہ بھی جنگ میں کام آئے۔پھر ایک سَيْفَ مِّنْ سُيُوفِ اللَّهِ اس جگہ کھڑی ہوئی اور اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تباہی سے بچا لیا 2۔جب یہ لشکر واپس آیا تو جن جن لوگوں کے رشتہ دار مارے گئے تھے انہیں تفصیلی حالات معلوم ہوئے تو کسی کی ماں نے کسی کی بہن نے کسی کی بیوی اور کسی کے اور رشتہ داروں نے رونا شروع کیا۔تاریخ میں آتا ہے کہ جب رونے کی آوازیں آنا شروع ہوئیں تو رسول کریم ﷺ بھی رو پڑے اور فرمایا کہ سب گھروں سے رونے کی آوازیں آتی ہیں مگر جعفر کے گھر سے کوئی آواز نہیں آتی۔اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ مدینہ میں مسافر تھے اور یہاں ان کا کوئی قریبی رشتہ دار نہ تھا۔یہ ایک درد کا اظہار تھا۔اس کے یہ معنی ہرگز نہ تھے کہ یہ کوئی اچھی چیز تھی۔جعفر چونکہ رسول کریم ﷺ کے چچیرے بھائی تھے اور سب رشتہ داروں کو چھوڑ کر رسول کریم ﷺ کے ساتھ ہجرت کر آئے تھے۔دوسروں کو روتے دیکھ کر آپ کو خیال ہوا کہ اگر ان کے بھی عزیز یہاں ہوتے تو وہ بھی روتے۔صحابہ کرام جو رسول کریم ﷺ کی ہر خواہش کو پورا کرنا ضروری سمجھتے تھے انہوں نے الله آکر اپنی مستورات کو گھروں سے کھینچ کھینچ کر نکالا کہ حضرت جعفر کے گھر جاؤ۔اور۔