سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 24 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 24

سيرة النبي علي 24 جلد 4 دو رسول صلى الله پیاروں کی وفات پر رسول کریم مے کا طرز عمل اور نمونہ حضرت مصلح موعود نے 19 مئی 1933 ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا:۔صلى الله رسول کریم ﷺے ایک دفعہ ایک مجلس میں بیٹھے تھے کہ کوئی شخص آپ کو بلانے آیا کہ آپ کی صاحبزادی بلاتی ہیں کیونکہ آپ کا نواسہ بیمار ہے۔آپ تشریف لے گئے اور ساتھ دوسرے صحابہ بھی تھے۔بچہ اُس وقت نزع کی حالت میں اور بہت تکلیف میں تھا۔آپ نے اسے گود میں اٹھا لیا اور اس کی حالت کو دیکھ کر آپ کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔وہ بچہ وہیں فوت ہو گیا۔تب ایک صحابی نے جو حقیقت سے آگاہ نہ تھا اور جسے عرفان کا مقام حاصل نہیں تھا کہا کیا اللہ تعالیٰ کا رسول بھی روتا ہے؟ آپ نے صلى الله فرمایا تمہیں اللہ تعالیٰ نے سنگ دل بنایا ہوگا مجھے رحم دل بنایا ہے 1۔تو رسول کریم علی کے جو سب سے زیادہ قرب الہی کے مقام پر تھے انہوں نے بھی اس بچہ کی جدائی پر تکلیف محسوس کی بلکہ جب اس پر اعتراض کیا گیا تو اسے سنگدلی قرار دیا۔ایک اور واقعہ مجھے یاد پڑتا ہے۔اور میرا حافظہ ایک سے زیادہ واقعات کو ملاتا نہیں تو وہ اس طرح ہے کہ آپ نے اپنے چچا زاد بھائی کو ایک لشکر کا نائب سالار بنا کر بھیجا۔آپ نے فرمایا کہ اس لشکر کے سردار زید بن حارثہؓ ہوں گے۔لیکن اگر وہ شہید ہو جائیں تو جعفر ہوں گے۔اور اگر وہ شہید ہوں تو پھر عبداللہ ان کی جگہ ہوں گے۔خدا تعالیٰ کی قدرت جنگ ہوئی اور زید مارے گئے۔جنہیں لوگ رسول کریم ﷺ کا بیٹا